افغان فوجیوں کا فرار

216

ابھی امریکی وزیر خارجہ کے بیان کی روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ طالبان جھوٹ بول رہے ہیں۔ افغانستان پر ان کا 90 فی صد قبضہ نہیں ہے۔ افغان فورسز ہر قسم کے حالات اور سخت جنگ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ طالبان کی پیش قدمی روک رہی ہیں۔ لیکن اسی روز پانچ افسران سمیت 46 افغان فوجی طالبان کے مقابلے میں افغان چوکیوں کا دفاع کرنے میں ناکامی پر فرار ہو کر پاکستان آگئے۔ ان فوجیوں کو مقامی کمانڈر کی درخواست پر فوجی طریقہ کار کے مطابق پناہ دی گئی۔ پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ افغان فوجیوں نے محفوظ راستہ مانگا جو دے دیا گیا۔ افغان حکام بہرحال وہی کہیں گے جو انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں نے کوئی پناہ نہیں مانگی۔ پاکستان کے حوالے سے حساسیت موجود ہے۔ پناہ تو یہ امریکا کے جانے کے اعلان کے وقت سے مانگ رہے ہیں کہ ابھی نہ جائو۔ ابھی نہ جائو۔ افغان فوجیوں کے فرار کا سلسلہ نیا نہیں ہے، افغان فوج طالبان کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہے بلکہ مقابلہ کر ہی نہیں سکتی، اس لیے اس کے فوجی بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ یکم جولائی کو بھی 35 افغان فوجی بھاگ کر پاکستان آئے تھے۔ امریکا اور دیگر ممالک بلاوجہ افغانوں کے وسائل اور افغان فورسز کو آگ میں جھونک رہے ہیں۔ 20 برس تک 40 ممالک افغانستان میں اپنا قبضہ قائم نہ کرسکے اور جو پٹھو مسلط کیے تھے ان کی حکومت بھی صرف شام تک سرکاری محلوں اور فوجی چھائونیوں تک رہتی تھی، اب تو امریکا بھی بھاگ کھڑا ہوا ہے تو افغان فوجی کیوں نہیں بھاگیں گے۔ لیکن سیاسی محاذ پر پاکستانی حکمران شدید خلجان میں مبتلا ہیں۔ وہ طالبان کی کھل کر مخالفت بھی نہیں کرپارہے اور افغان حکومت سے اچھے تعلقات بھی قائم نہیں کرپارہے۔ یہاں تک کہ افغان حکومت کے نمائندے کی نواز شریف سے ملاقات پر بے چین ہیں لیکن طالبان سے اپنے رابطوں اور امریکا کا طالبان سے مذاکرات پر کوئی ٹھوس موقف نہیں ہے۔ حکومت پاکستان بھی تو فیصلہ کرے کہ افغانستان میں وہ کیا پالیسی رکھتی ہے۔ افغانستان کو دوست بنانا ہے یا پہلے ہی طے کرلیا ہے کہ جو آئے گا اسے دشمن بنا کر رکھنا ہے۔ پاکستان افغانستان کے بارے میں اپنی اس پالیسی کو اختیار کیوں نہیں کرتا جس کے نتیجے میں پاک افغان سرحد پر کھڑا سپاہی ہاتھ میں صرف ایک چھڑی لیے ہوتا تھا اور کہتا تھا کہ باردر تو روس کے ساتھ ہے۔ ہم سب ایک ہیں۔ اگر پاکستان کے پڑوس کی سرحد محفوظ رہے گی تو بھارت کا دماغ بھی درست کرنا آسان ہوگا اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔