کوسٹاریکا جزائرکے نیچے آبی شاہراہ خطرے میں، ماہرین

305

کوسٹا ریکا: گلاپاگوس جزائر  اور کوکوس جزیروں کے آس پاس سمندر کے نیچے سے ایک راستہ گزررہا ہے جسے شارک اور کچھوؤں کی آبی شاہراہ کہا جاسکتا ہے لیکن خبر یہ ہے کہ اب یہ راستہ جو شارکس اور کچھوؤں کی آبی گزرگاہ کہا جاتا ہےختم ہونے کے قریب ہے اور اب اسے بچانے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

بین الاقوامی سائنسی میگزین کے مطابق گلاپا گوس جزائر اور کوکوس جزیروں کے آس پاس سمندر کے نیچے سے ایک راستہ گزررہا ہے جسے شارک اور کچھوؤں کی آبی شاہراہ کہا جاتا ہے لیکن یہ شاہراہ اب خطرے کا شکار ہے۔

خیال رہے سمندری جانوروں کی یہ ہائی وے 750 کلومیٹر طویل ہے جس پر لیدر بیک اور سبز کچھوے کے علاوہ انواع و اقسام کی شارک بھی آتی جاتی رہتی ہیں اور یہاں موجود مرجانی چٹانوں اور پہاڑیوں کو یہ جاندار بطور سنگ میل استعمال کرتے ہیں، بعض جانور یہاں رک کر کھانا کھاتے ہیں اور آرام بھی کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سمندر کے نایاب ترین جاندار اس راستے پر آتے اور جاتے ہیں، لیکن یہاں کا سمندر کھلا ہے اور ماہی گیر ادارے اپنے جہاز اور کشتیاں لا سکتے ہیں اور اس طرح یہ حساس رہگزر شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے یہاں پر تحقیق کرنے والے ماہر ایلیکسا اس علاقے کو مکمل طور پر محفوظ قرار دینا چاہتے ہیں جس کا رقبہ 2 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر ہوگا یعنی برطانیہ کے رقبے کے برابر ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کے فرش پر سمندری پہاڑیوں کے ابھار ہیں جو ایک زمانے میں لاوا اگلتے تھے اور اب مقناطیسی سگنل خارج کرتے ہیں اور  ان کی مدد سے بعض جانور مثلاً ہیمرہیڈ شارکس اور سمندری کچھوے اپنی منزل کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔

ایلیکسا کا کہنا ہے کہ  یہ علاقہ ان بے زبان جانورں کے لیے ایک سنگ میل فراہم کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس اہم آبی راہگزر کو بچانے کی ضرورت ہے۔