سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر

61

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی۔ رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان سمیت 6 ارکان اسمبلی کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواستمیں کہاگیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی سیٹ اپ اگست2020ء میں ختم ہوا تھا، حکومت قانون کے مطابق 120 روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابند ہے،ایک سال گزر جانے کے باوجود سندھ میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے، تاحال بلدیاتی انتخابات نہ
کرانے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں بتائی گئی، سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا جائے، جب تک صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے تب تک غیر جانبدار کارپوریشن ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کا حکم دیا جائے۔ صوبائی حکومت کو سیاسی وابستگی کے حامل افراد کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے سے روکا جائے، صوبائی حکومت نے غیر قانونی کاموں کو شیلٹر دینے کے لیے من پسند افراد کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کر رکھا ہے، آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے جائیں۔ درخواست جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خرم شیر زمان، بلال غفار کاکہناتھا کہ پچھلے 13 سال سے صوبے سندھ میں پیپلزپارٹی نے غنڈہ گردی کا ماحول بنا رکھا ہے، سندھ کے عوام سسک رہے ہیں، سندھ کے عوام کو انصاف دلانے سندھ ہائیکورٹ آئے ہیں، پیپلزپارٹی کو خوف ہے تحریک انصاف کراچی میں انتخابات جیت جائے گی،ہم نے 9 ارب 90 روپے لگا کر کراچی کی عوام کے لیے کام کیے ہیں، سندھ میں پری پول رگینگ کی جاری ہے، 2 نمبر اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لگائے گئے ہیں،سندھ حکومت نے 13 سال میں 13 بسیں بھی نہیں دیں، صوبے کا وزیر اعلیٰ نالائق اعلیٰ ہے، کوئی ایک یوسی دکھا دیں جس کے عوام کے پاس بنیادی سہولیات ہوں، امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا، وزیراعظم نے کراچی کی گلیاں اور نالے بنائے ہیں، بڑے بڑے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، ہم ان کو ایکسپوز کریں گے کہ انہوں نے کیسے عوام کا پیسہ لوٹا، وزیر اعلیٰ کہتا ہے صوبے کو ہیلتھ کارڈ کی ضرورت ہی نہیں ہے،سندھ میں ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کی این او سی نہیں دی جارہی،پورے صوبے کی عوام عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔