پاکستان ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت سکتا تھا متعدد سیریز جتوانے والے کپتان سرفراز کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے؟

156

پاکستان تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی حسب توقع 3وکٹ سے ہار گیا ۔ یہ ایک بہترین موقع تھا سیریز جیتنے کا جو پاکستان اپنی ناقص حکمت عملی ، غلط پلاننگ اور وکٹ کا غلط اندازہ لگا کر سیریز2-1سے ہار گیا ۔ ٹاس جیتنے کا فائدہ پاکستان نے اپنی نا اہلی کی وجہ سے گنوا دیا ۔ ٹی ٹوئنٹی کے ابتدائی میچ اور ون ڈے میں پاکستان کی مڈل آرڈر مشکلات کا شکار رہی اور مڈل آرڈر بیٹسمین بشمول محمد حفیظ ، صہیب مقصود کے سارے ہی ناکام ہو رہے ۔ ایک ایسی وکٹ جو بیٹنگ کے لیے نسبتاً مشکل تھی وہاں 2 بولرز کے ساتھ کھیلنا اور ایک بولر محمد حسنین جیسے بولر سے ایک بھی اوور نہ کرانا اور شاہین آفریدی سے صرف ایک اوور کرانا ٹیم انتظامیہ اور کپتان بابر اعظم کی نا اہلی کا بہت بڑا ثبوت ہے ۔ شاداب خان سے لگتا ہے مصباح الحق کو کچھ زیادہ ہی لگائو ہے ساتھ ہی بابراعظم کو بھی جو پر فارمنس نہ ہوتے ہوئے ریگولر ٹیم کا حصہ ہے یہی نہیں بلکہ وہ بیٹنگ میں4 نمبر پر بیٹنگ کرنے آجاتے ، عماد وسیم جیسے بیٹسمین کی موجودگی میں عماد وسیم وہ بیٹسمین ہیں جو ورلڈ کپ2019ء میں سر فراز کی کپتانی میں دو میچز پاکستان کو تن تنہاChaseکرتے ہوئے اپنی بیٹنگ سے جتواچکے ہیں ، اس کے باوجود وہ نہ صرف ون ڈے ٹیم میں شامل نہیں تھے بلکہ اس میچ میں بھی وہ شاداب کے بعد کھیلنے آئے جبکہ شاداب خان نے کبھی میچ اپنی بیٹنگ سے نہیں جتوایا ۔
پاکستان کرکٹ کے صدر احسان مانی صاحب جو آئی سی سی کے سابقہ صدر بھی رہ چکے ہیں ۔ اور وسیم خان صاحب جو کائونٹی چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں کیا یہ مصباح الحق ، وقار یونس اور بابر اعظم سے آگے بھی امیدیں لگا کر کوچنگ اور کپتانی کے عہدے پر ان کو مزید بر قرار رکھیں گے ۔سر فراز کی کپتانی میں ہم دنیا کی نمبر ایک ٹیم تھے جب مسلسل ہم نے گیارہ سیریز جیتی تھیں اور31میں سے26میچوں میں کامیابی حاصل کی تھی ۔
ایسا لگتا ہے پاکستان ٹیم کو میچ جتوانے والے اور ٹیم کو نمبر ون بنانے والے کپتان کی ضرورت نہیںبلکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کپتان بنانے اورپسندیدہ کھلاڑیوں کو کھلانے کے لیے ٹیم بنی ہے ۔
آیئے تھوڑاماضی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ، زیادہ دور نہیں جائیںگے ، ہم صرف ورلڈ کپ2019ء کے شروع ہونے سے قبل کے واقعات اور اس کا تسلسل یہی بتاتا ہے کہ سر فراز احمد کو پوری پلاننگ کے تحت ہٹایا گیا ۔
ورلڈ کپ2019ء سے قبل پاکستان کو دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف5ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنی تھی جہاں سرفراز کو یہ کہہ کر کپتانی اور ٹیم سے ہٹا دیا گیا کہ ان کو آرام کا موقع دیا جائے جبکہ سر فراز کہتے رہے کہ ورلڈ کپ سے پہلے یہ ایک بہترین موقع ہے پریکٹس کے لیے پھر بھی اس سیریز کے لیے سر فراز کی جگہ شعیب ملک کو کپتان بنا دیا گیا ۔ شعیب کی بد قسمتی کہ وہ شروع کے تین میچ مسلسل ہار کر سیریز چھوڑ گئے ورنہ شاید اگر یہ سیریز جتوا دیتے تو ورلڈ کپ میں سر فراز کی جگہ شعیب ملک کپتان ہوتے ۔ اس کے بعد پاکستان نے سرفراز کی کپتانی میں بہترین کم بیک کیا جس میں تقریباً تمام بڑی ٹیموں کو ہرایا ، جس میں ورلڈ کپ کے فائنلسٹ دونوں ٹیمیں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں ۔
ورلڈ کپ کے بعد سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی اور حیرت انگیز طور سے پاکستان کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کی ۔ پاکستان کی ہار کے پیچھے جو بھی وجوہات ہوں مگر یہ سیریز سر فراز کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی ،سرفراز کو تینوں فار میٹ میں ایک ساتھ کپتانی سے ہٹا دیا گیا جس نے پاکستان کو نمبر ایک کی رینکنگ میں لا کھڑا کیا تھا وہی کپتان ایک سیریز ہارنے کے بعد تینوں فارمیٹ کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔