تیونس میں وزیر اعظم بر طرف ، سیاسی ماحول گرم

149
تیونس: حکمراں جماعت نہضہ کے حامیوں نے پارلیمان کا گھیراؤ کررکھا ہے‘ مظاہرین پتھراؤ سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں

تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کے صدر قیس سعید نے سیاسی اختلافات کے باعث وزیراعظم ہشام مشیشی کو برطرف کر کے خودمختار سربراہ بننے کا اعلان کردیا۔ خبررساں اداروںکے مطابق صدر قیس سعید نے حکمراں جماعت النہضہ پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک سے غداری کی اور عوا م کے حقوق سلب کیے۔ انہوں نے ہشام مشیشی اور ان کی کابینہ کو برطرف کرکے اعلان کیا کہ وہ نئے سربراہ کا انتخاب اپنی صواب دید پر کریں گے اور نئی حکومت کی مدد سے انتظامی امور کا اقتدار خود ہی سنبھالیں گے۔ صدر قیس سعید نے تیونسی پارلیمان کو بھی ایک ماہ تک کے لیے معطل کرکے تمام ارکان سے اختیارات سلب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملکی آئین میں پارلیمان کو تحلیل کرنے کی اجازت نہیں ہے، تاہم ایوان کی کارروائی معطل کرنا ان کے اختیار میں ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صدر کے حکم پر فوج نے پارلیمان کی عمارت کا بھی محاصرہ کر لیا ہے۔ صدر کی جانب سے متنازع اقدامات کے اعلان کے بعد فوج کے حمایتی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ دوسری جانب پارلیمان کے اسپیکر راشد غنوشی نے صدر پر ملکی آئین کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کیا۔ اسلامی جماعت النہضہ کی جانب سے جاری کردہ وڈیو پیغام میں انہوں نے عوام سے بغاوت کے خلاف مظاہروں کی اپیل کی۔ منتخب پارلیمان کو آئینی ذمے داریوں سے روکنے کے خلاف تحریک النہضہ نے راشد الغنوشی کی قیادت میں پارلیمان کے باہر دھرنا دے دیا ہے۔ مظاہروں کے دوران تحریک النہضہ کے حامیوں نے پارلیمان میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم فوج نے انہیں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان کے تمام داخلی راستوں کے اندر اور باہر فوج کی بکتر بند گاڑیاں کھڑی ہیں۔ اس دوران کئی مقامات پر صدر قیس سعید اور تحریک النہضہ کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،جن میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق معزول وزیراعظم ہشام مشیشی کو فوج کے ہیڈ کواٹر میں منتقل کیا گیا ہے جب کہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ گھر میں نظر بند ہیں۔ واضح رہے کہ تیونس میں 2011 ء کے بعد سے ہی سیاسی عدم استحکام جاری ہے۔ عرب بہار کے نتیجے میں ملک کے مطلق العنان حکمران زین العابدین بن علی کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا، جس کے بعد سے ملک سیاسی افراتفری کا شکار ہے۔ سیاسی رہنما اب تک کوئی مستقل حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں اور صرف ایک برس سے بھی کم عرصے میں ہشام مشیشی کی یہ تیسری حکومت تھی، جسے صدر قیس سعید نے برطرف کرکے ملک کو ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے سپرد کردیا ہے۔ ادھر ترکی نے تیونس میں اسمبلی تحلیل کیے جانے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ تیونس میں عوام کی نمایندہ اسمبلی کو تحلیل کیے جانے پر تحفظات ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ملکی آئین کے دائرہ کار میں تیونس میں جلد از جلد جمہوریت کی تعمیر نو کی جائے گی۔