امریکا اور چین کا کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال

112

 

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی نائب وزیر خارجہ خارجہ وینڈی شرمین وفد کے ساتھ چین کے دور ے پر پہنچ گئیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق چین کے شہر تیانجن میں انہوں نے چینی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کا افتتاح کیا۔ ان مذاکرات میں سائبر سیکورٹی، انسانی حقوق سے متعلق معاملات اور تجارتی امور پر بات چیت ہو گی۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا چین کو برا بھلا کہہ کر اپنے داخلی مسائل میں بیجنگ کو مورد الزام ٹھہرانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ہم امریکا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی گمراہ کن ذہنیت اور خطرناک پالیسی کو تبدیل کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ واشنگٹن چین کو دشمن تصور کرتا ہے۔ چینی نائب وزیر خارجہ نے امریکی ہم منصب سے ملاقات میں واضح کیا کہ امریکا داخلی مسائل میں بیجنگ کو گھسیٹنا بند کردے۔ نائب وزیر خارجہ ژائی فینگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید مشکلات سے دوچار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی عوام امریکا کے منفی بیان بازی کو برتری حاصل کرنے کی اوچھی کوشش سمجھتے ہیں۔ادھر امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے بھی امریکی تحفظات کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے چین کی جانب سے سائبر کرائم، معاشی پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آوازاٹھائی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وینڈی شیرمین کو دونوں ممالک کے درمیان پروٹوکول کے مسائل کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور منگولیا میں رکنا پڑاتھا۔اپنے دورے کے دوران وہ چینی وزیر خارجہ اور اسٹیٹ کونسل وانگ یی سے بھی ملاقات کریں گی۔