اَینکرز اور مداریوں میں فرق ہونا چاہیے

255

دروغ گردن راوی ۔کہتے ہیں کہ ہارون رشید کے دَور میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کو وہ دُور سے ایک سُوئی پھینک کر زمین میں گڑی ہُوئی دوسری سُوئی کے ناکے میں داخل کرسکتا ہے۔اُس مداری نے بِالآخر ایسا کردکھایا۔ بادشاہ نے اُس مداری کو انعام کے طَور پر ایک اشرفی دے دی اور حکم دیا کہ اُس نوجوان کو دس دُرّے مارے جائیں۔ اشرفی اِس لیے کہ وہ اِسی کا متلاشی تھا اور دُرّے اِس بنا پر کہ وہ اپنی ذہانت کا غلط استعمال کر رہاتھا اور لوگوں کا وقت بھی خراب کر رہاتھا۔
ہمارے ملک کے ٹی وی اینکرز اُسی نوجوان جیسا کردار ادا کرتے ہوے نظر آتے ہیںجو چند ٹکوں کے حصول کے لیے ملک وملّت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔مداریوں کے پاس تین چیزیں ہوتی ہیں بھالو‘ بندر اور بکری۔مداری کبھی بھالو کی پیٹھ پر بکری کو اور بکری کی پیٹھ پر بندر کو بِٹھا کر لوگوں کو ہنساتا ہے اور کبھی بندر سے پوچھتا ہے کہ وہ اپنے سسرال والوں سے کس طرح خفا ہوتا ہے۔اِسی طرح اینکرز حضرات پیپلز پارٹی ‘ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی والوں کو کبھی اپنے گرد گھماتے ہیں اور کبھی خود اُن کے گرد چکّر لگاتے ہیں۔یہ حقیقت تو شاید نہیں ہے ایک لطیفہ ہی معلوم ہوتا ہے ۔بہرکیف! میرے ایک جاننے والے نے مجھے سنایا کہ ایک صاحب کی کسی پارٹی سے سیاسی وابستگی تھی اوراُن سے یعنی سنانے والے سے بھی علیک سلیک تھی۔ ایک روز اُن کو معلوم ہُوا کہ اِن دنوں وہ سیاستدان اُداس نراس رہنے لگا ہے اور بیٹھے بیٹھے یکایک بُڑبُڑانے لگتا ہے ۔دریافت کرنے پر آں جناب نے کہا کہ فلاں اینکر کو پیشگی رقم ادا کردینے کے باوجود اُس نے موصوف کو لائن پر نہیں لیا ہے۔خیر! یہ تو ایک لطیفہ تھا مگر اے کاش! اینکرز حضرات یہ جان لیتے کہ ٹی وی کی شکل میں ایک ایسا اوزار اُن کے ہاتھوں میں ہے جسے استعمال کرکے وہ چھوٹے بڑے مسائل معلوم کرسکتے ہیں اور اُن مسائل کے حل کی سبیل بھی ڈھونڈنکال سکتے ہیںلیکن افسوس کہ اینکرز اِس اوزار کا غلط اِستعمال کر رہے ہیں۔وہ سرِشام بساط بچھاکر بیٹھ جاتے ہیں اورکچھ پٍٹے ہوے سیاسی مہروں کو اپنے سامنے بِٹھا لیتے ہیں اور خود اُنہی کے وضع کردہ سوالوں کا جواب لے کر قوم کا قیمتی وقت برباد کردیتے ہیں۔پیپلز پارٹی والوں نے مسلم لیگ والوں کو کیا کچھ کہا اور مسلم لیگ کے اراکین نے جواب میں اُنھیں کیا دشنام دیے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے وہ لتّے لیے کہ پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔یہ سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں جب بھی آئی ہیں ناکام اور نا مراد رہی ہیں۔پھر اُن سے عقل و دانش کی باتیں کیوں پوچھی جاتی ہیں۔
نئی حکومت نے سارے ملک کو بھانڈوں اور مسخروں کے شکنجے میں ڈال دیا ہے جبکہ نیم لباسی کا رجحان بڑھتا چلا جارہا ہے۔رعایا مہنگائی مہنگائی کا رونا رو رہی ہے اور علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہوتی جارہی ہے اور حکمران مدینہ کی ریاست بنانے کا چرچا کرتے ہوے نظر آرہے ہیں۔ کیا یہ تماشا مزیدار نہ ہوگا اگر اینکر حضرات علاقوں کے مسائل اور اُس کے سدباب پر گفتگو کرنے اور تجویز لینے کے لیے تمام شہروں اور قصبوں سے کچھ سیاسوں اور رمز سیانوںکو مدعو کرلیا کریں اور اُن سے مسائل اور مشکلات سے نکلنے کا قابلِ عمل حل دریافت کریں ۔دنیا اِس وقت پانی کی قلّت کا سامنا کر رہی ہے‘ برسات کا پانی ہمارے پَیروں تلے سے ہو کر یا تو سمندر میں جاگرتا ہے یا زمین میں جذب ہوجاتا ہے۔کوئی زیرک ہمیں بتلائے کہ ہم پانی کا محفوظ ذخیرہ کس طرح ممکن بناسکتے ہیں ۔کیا یہ ممکن نہیں کہ جھیلوں اور تالابوں کو گہرا اور کشادہ کردیا جائے یا اُن جھیلوں اور تالابوں سے متصل نئی جھیلیں اور تالاب بنا دیے جائیں تاکہ برسات کے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے۔
عدالتوں میں مقدمات کے انبار لگتے چلے جارہے ہیں اور فیصلے گَرد تلے دبائے جا رہے ہیں۔یا تو ہمارے جج حضرات معیاری نہیں ہیں یا عدالتی نظام کی خرابی کے باعث عدلیہ غیر موثّر ہوگئی ہے۔
دَواؤں کا فارمولا ایک ہی ہوتا ہے لیکن اُن دواوں کے بنانے والے کارخانے اور کمپنیاں قیمتیں الگ الگ کیوں رکھتی ہیں۔ وزارتِ صحت چشم پوشی سے کیوں کام لے رہی ہے۔مخیّر حضرات کو ٹیکس کی چھوٹ دے کر شہروں اور مضافات میں ہسپتالوں کا قیام ممکن ہوسکتا ہے کہ نہیں۔
بیکری کے سامان اور مٹھائیاں ایک ہی معیار کی ہوتی ہیں لیکن قیمتیں الگ الگ ہیں ‘ آخر کیوں؟ حلوائیوں کا یہ کمال بھی ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ ہمیں گَتّوں سے بنائے ہوے ڈبّے میٹھائی کے بھاؤ میں پکڑا دیتے ہیں اور ہم کسی ناگواری کا اظہار بھی نہیں کرتے ہیں۔پیٹز اور بسکٹوں میں ڈالے جانے والے عنصر ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن کراچی کی بیکریاںیہ چیزیں الگ الگ بھاؤ میں فروخت کر رہی ہیں۔
یہ بھی پتہ لگایا جانا ضروری ہے کہ کولڈ اسٹوریج کے کیا فوائد ہیں‘ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ کولڈ استوریج مہنگائی میں اضافے کا باعث ہیں اور کولڈاسٹوریج اگر نہ ہوں تو ملک وملّت کا کیا نقصان ہے؟
گاؤں اور مضافات میں گوبر گیس کس طرح بنائی جاسکتی ہے اور ایندھن کا سستا حصول کس طرح ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ملک سے غربت ختم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے اور دو طبقے سر اُبھارتے ہوے نظرآنے لگے ہیں‘ غریب اور اَمیر‘ متوسّط طبقہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
اینکرز حضرات! اِن معاملات اور مسائل کے حل کے لیے ماہرین کی تلاش اگر آپ نہیں کرسکتے ہیں تو آئیے میرے ساتھ آپ بھی بھالو‘ بندر اور بکری کا کھیل دیکھنے میں مشغول ہو جائیے۔