چیئرمین ایف بی آرکے نام ایک کھلا خط

157

یوں لگتا ہے کہ ایف بی آر دنیا کا واحد ٹیکس وصولی کرنے والا ادارہ ہے۔ جس کے بنیادی اہداف درج ذیل ہیں:
.a اس بات کو یقینی بنانا کہ جب کوئی پاکستانی ٹیکس ادا کرنے آئے تو اس کی حوصلہ شکنی کی جائے اور جہاں ممکن ہو اسے ہراساں کیا جائے اور اذیت سے دوچار کیا جائے۔
.b اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کا ایک پیچیدہ نظام وضع کیا گیا ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی کبھی بھی اسے استعمال نہیں کرسکے اور ٹیکس ادائیگی کے لیے اسے ٹیکس کنسلٹنٹس پر انحصار کرنا اور اکثر ایف بی آر حکام سے گٹھ جوڑ کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ ایک عام شہری مثلاً حکومت کو 10ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا چاہے تو اسے ٹیکس کنسلٹنٹ کو 15ہزار روپے ادا کرنا ہوگا۔ لہٰذا بہتر ہے کہ وہ ٹیکس ادا ہی نہ کرے۔ یہاں تک کہ اب ’’آسان ٹیکس‘‘ ایپ کو ’’مشکل ٹیکس‘‘ کہا جانا چاہیے کیونکہ اسے پاکستان کا کوئی شہری استعمال نہیں کرسکتا ہے۔
.c اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد اور اس عظیم ملک کے ٹیکس کو اس حد تک نچلی سطح پر رکھا جائے کہ یہ ملک مستقل طور پر بھکاری اور ڈونر ایجنسیوں کے قرضوں کی زد میں رہے۔
بصدافسوس کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے 70 برسوں میں آپ نے مذکورہ بالا تینوں معاملات پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس طرح آپ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔اگر آپ کو اپنے کام میں ذرا بھی دلچسپی ہوتی تو آپ سڑک پر موجود کسی بھی فرد سے بھی پوچھ سکتے تھے کہ کیا اس
نے کبھی ٹیکس ادا کیا ہے؟ یا ٹیکس کی ادائیگی کے لیے آپ کی پیچیدہ ویب سائٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے؟ ہم نے فنانس اور کمپیوٹر کی ڈگری رکھنے والے سیکڑوں افراد سے انٹرویوکیے ہیں۔ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی آپ کی ’’تباہی کے لیے ڈیزائن کردہ‘‘ ویب سائٹ کا سر یا دم کا سرا نہیں پکڑ سکا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو بھی اس کے کام کرنے کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں ہے۔
اس سلسلے میں صرف اردو اور انگلش میں ایک صفحے کے آسان سے فارم کی ضرورت تھی۔ جس میں ایک آٹھویں کلاس پاس شہری بھی اپنی آمدنی کے بنیادی حقائق دے سکتا ہو۔ اور خود ہی اس بلاک کے مطابق ٹیکس ادا کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے جس میں اس کی آمدنی آتی ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی کے لیے کسی PSID ، ’’چالان‘‘ یا بینکوں کی قطار میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ٹیکس ادا کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹ نمبر کا (ٹی وی اور اخبارات) میں اعلان کریں۔ تاکہ کوئی بھی شہری جو اپنا فون اور موبائل منی ٹرانسفر سسٹم جیسے ایزی پیسہ ، یوپیسہ یا جاز کے ذریعے اپنے ٹیکس کی رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع کراسکے۔ 70 برس سے ، آپ اپنے پیشے یا ضمیر کے سامنے جوابدہ نہیں رہے۔ آپ پاکستان کو تیسری دنیا کا بدترین ملک بنانے کے معمار ہیں۔ تاہم ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ بالآخر ایک دن اس ملک کے عوام اور پاکستان کے قانون کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔