عارف نظامی یادیں رہ گئی ہیں

205

ممتازصحافی، انگریزی روزنامہ ’’پاکستان ٹوڈے‘‘ کے ایڈیٹر عارف نظامی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ وہ دل کے مریض تھے اور کچھ دنوں سے مقامی نجی اسپتال میں زیر علاج تھے، موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو اس کا مزہ چکھنا ہے اس سے کسی کو فرار حاصل نہیں، وہ ’’نوائے وقت‘‘ کے بانی ایڈیٹر حمید نظامی مرحوم کے صاحبزادے تھے جب اس اخبار کا انتظام و انصرام مجید نظامی نے سنبھالا تو انہوں نے رپورٹنگ سمیت اخبار کے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام کیا اور پھر ڈپٹی ایگزیکٹو ایڈیٹر بن گئے۔ نوائے وقت گروپ کے زیر اہتمام جب انگریزی اخبار ’’نیشن‘‘ شائع ہوا تو اس کے مدیر مقرر ہوئے جب تک ان کی وابستگی ادارے کے ساتھ رہی، تب تک وہ اس اخبار کے مدیر رہے بعد ازاں ’’پاکستان ٹوڈے‘‘ کے نام سے اخبار شائع کیا جو اب تک شائع ہو رہا ہے،جناب عارف نظامی نے رپورٹنگ کے شعبے میں اپنی مضبوط شناخت اور ساکھ بنائی اور ایڈیٹر بن جانے کے بعد بھی کبھی کبھار بڑے بڑے ’’اسکوپ‘‘ ان کے کریڈٹ پر ہیں، 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی تفصیلات سب سے پہلے عارف نظامی نے خبر کی صورت میں دیں، 1990 غالباً اپریل کا مہینہ تھا، ایک خبر راقم کے کریڈٹ پر بھی ہے خبر تھی بے نظیر بھٹو حکومت کو اگست تک مہلت، بے نظیر بھٹو حکومت 6اگست کو ختم ہوئی تھی، جسارت کے مدیر عبدالکریم عابد بھی انہی دنوں کم و بیش ایسی کی اطلاع دے چکے تھے، اسی طرح جب صدر فاروق لغاری نے جب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت برطرف کی تو اس کا پورا منصوبہ اسی روز ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’نیشن‘‘ میں عارف نظامی نے تفصیل سے بیان کر دیا تھا۔حیرت ہے کہ اس وقت کی وزیراعظم اس سے قطعی لاعلم تھیں اور جب انہیں صبح کے وقت بتایا گیا کہ صدر ان کی حکومت برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دو اخباروں نے صدر کے پلان کی ساری تفصیل چھاپ دی ہے تو انہوں نے اس اطلاع پر یقین نہیں کیا اور اخبارات کی خبروں پر تبصرہ کیا کہ وہ ایسی ہی بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں۔ غالباً انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی صدر لغاری سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے اس کی تردید کی ہے بے نظیر بھٹو نے سندھ ہاؤس میں پریس کانفرنس کی اور خبرکی تردید کرکے اپنی حد تک مطمئن ہو گئیں، ان کا یہ اطمینان زیادہ دیر تک قائم نہ رہا کہ اسی روز صدر فاروق لغاری نے وزیراعظم کو برطرف کر دیا۔ اسمبلی توڑ دی اور حکومت کا خاتمہ کر دیا اور ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم بنا دیا ، پیپلزپارٹی کے تیسرے دور میں ایک نجی ٹی وی کے مالک کے ذریعے نظامی صاحب کوبہت ہی پر کشش آفرز بھی ہوتی رہیں مگر انہوںنے ایسی کسی آفر پر دھیان نہیں دیا،حکمرانوں کی ایسی ہی لاعلمیاں بھی جب سامنے آتی ہیں تو آدمی حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ کار حکمرانی سے ایسی بے خبری بھی ممکن ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں عارف نظامی کی رسائی کتنی گہری تھی کہ وہ حکومت کے انتہائی اہم اور خفیہ منصوبوں سے بھی باخبر ہوتے تھے اگرچہ حکمرانوں، بیورو کریسی اور سیاستدانوں کے ساتھ ان کے قریبی مراسم تھے تاہم ان کی ادارتی پالیسی آزادانہ تھی اور اس کا اظہار وہ اپنے کالموں میں اکثر کرتے رہتے تھے۔ حکمران چل کر ان کے چچا مجید نظامی کے گھر جاتے تھے تو ان سے بھی روابط رکھتے تھے تاہم ان تعلقات کا اخبار کی ادارتی پالیسی پر زیادہ اثر نہیں ہوتا تھا خبروں تک عارف نظامی کی رسائی کا یہ عالم تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ریحام خان کے ساتھ شادی کی خبر بھی انہوں نے سب سے پہلے دی اور طلاق کی خبر ایسے وقت دے دی جب کوئی اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ جب انہوں نے طلاق کی خبر دی تو شروع شروع میں ہر طرف سے اس کی تردید کی گئی حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ہمدردوں نے ان کی کردارکشی بھی شروع کر دی لیکن بالآخر یہ خبر حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ یہاں ہم نے صرف دو خبروں کا مختصر تذکرہ کیا ہے لیکن عارف نظامی کے کریڈٹ پر ایسی درجنوں خبریں ہیں جو ان کی خبروں تک رسائی کی غیر معمولی صلاحیت اور ان کی رپورٹنگ کی مہارت کی آئینہ دار ہیں،نوائے وقت سے علیحدگی ان کی زندگی کا ایک افسوسناک مقام ہے لیکن بہت سے عوامل حالات کو اس نہج پر لے آئے تھے کہ چچا کا انہیں ساتھ لے کر مزید
چلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا البتہ ان کی علیحدگی بہتر طریقے سے بھی ہو سکتی تھی لیکن اختلافات نے ایسی شکل اختیار کر لی کہ اگر اس کا کوئی امکان باقی رہ بھی گیا تھا تو حالات کی وجہ سے اس کا بھی خاتمہ ہو گیا پھر انہوں نے مشکل وقت میں اپنا انگریزی اخبار جاری کیا اور اسے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا اب ان کی اچانک وفات کے بعد اس اخبار کا مستبقل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے۔ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے وارث اس ضمن میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں اور کیا اخبار جاری رکھنا ان کے لئے ممکن بھی ہوگا یا نہیں کیونکہ مجموعی طور پر یہ حالات صحافت کے لئے سازگار نہیں ہیں اور پوری اخباری صنعت ہی ایک بحرانی دور سے گزر رہی ہے حق گوئی و بیباکی نظامی خاندان کا طرہ امتیاز ہے اور عارف نظامی اپنے خاندان کی اس روایت کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا رہے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے دونوں ادوار میں صحافت کی خدمت کی اگرچہ وہ نوائے وقت کی حد تک ’’یکے از مالکان‘‘ تصور ہوتے تھے لیکن کارکنوں کے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ ایک عامل کارکن جیسا رہا، وہ ایک بڑے باپ اور اپنے وقت کے بڑے ایڈیٹر کے صاحبزادے ہونے کے باوجود ان میں احساسِ تفاخر بالکل نہیں تھا، نرم دمِ گفتگو تھے، آہستگی سے بات کرتے تھے حتیٰ کہ جب کسی پلیٹ فارم پر تقریر کرتے تو بھی لہجے کی نرمی برقرار رہتی دل کے عارضے کی وجہ سے اب وہ زندگی ہار گئے ہیں تو ان کی خوشگوار یادیں باقی ہیں۔