سونامی ٹلا نہیں

175

 

ناصر حسنی
آزاد کشمیر میں الیکشن کا بخارتو اتر چکا ہے مگر ہارنے والے امیدواروں کو بخار چڑھ گیا ہے، خدا کرے کسی کو ڈینگی یا ملیریا بخار نہ ہو ورنہ سونامی قوم کو منتشر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، عام طور پر یہی کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ جمہوری نظام ملک و قوم کی بہتری کے لیے ایک بہتر نظام ہے مگر زمینی حقائق وواقعات گواہ ہیں کہ جمہوریت قومی خزانے کو برباد کرنے کاذریعہ ہے، چنیوٹ کے ایک حلقے میں صرف دو ووٹر رجسٹر تھے اور پولنگ اسٹیشن کی حفاظت کے لیے ایلیٹ فورس کے 40جوان تعینات کیے گئے تھے۔ دادو پولنگ اسٹیشن پر ایک خاتون ووٹر رجسٹرڈ تھیں مگر وہ بھی اپنی ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئیں، ایک دو ووٹ کے حصول کے لیے قوم کو مزید قرضے کے بوجھ تلے کیوں دبایا جاتا ہے ایسے ووٹ کے حصول کے لیے کوئی مناسب و معقول نظام بھی تو رائج کیا جاسکتا ہے۔
آزاد کشمیر میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی نے پہلے ہی انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کمزور اور نا اہل الیکشن کمیشن کے نتائج کس حد تک قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم عمران خان کے وزیروں اور مشیروں نے جو گل کھلائے ہیں ان کے مرجھانے کا کوئی سبب ہی نہ تھا مگر ان کی شگفتگی اور خوشگو نے ساری دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کبھی نہیں پنپ سکتی بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ وہاں پر بھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں مگر وہاں کا الیکشن کمیشن بااختیار ہے اس کی قابلیت اور اہلیت ہی نے بھارتی جمہوریت کو سربلند کر رکھا ہے ورنہ وہاں بھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی کمی نہیں۔ الیکشن کے دوران ایک وزیر اپنے امیدوار کے ووٹروں کی حوصلہ افزائی کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچ گیا مگر وہاں سے نکل نہ سکا کیوں کہ لوگوں نے اسے پکڑ کربھوسے کی کوٹھڑی میں بند کر دیا تھا علاقہ کی پولیس نے اپنی کارکردگی دکھانے کی کو شش کی تو معززین نے کہا کہ وزیر صاحب نے جو کچھ کیا ہے کیا وہ درست ہے تو پولیس کو تسلیم کرنا پڑا کہ غلط ہے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا تب پولیس افسران کو یہ باور کرایا گیا کہ غلطی عام آدمی کرے یا کوئی وزیر کرے اس کی حمایت بھی ناقابل معافی جرم کے زمرے میں آتی ہے معاملے کی سنگینی اورحکومت کی بدنامی کے پیش نظر حلقے کے صاحب اثر افراد متحرک ہو گئے اور وزیر صاحب کو تحریری طور پر یہ اعتراف کرنا پڑا کہ انہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھاعوام نے جو کچھ کیا وہ قابل ستائش ہے اوروہ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ وعدہ کرتے ہیں کہ حلقے کے ترقیاتی کاموں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے اور حلقے کے لوگوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی بھی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ مگر آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران گنڈا پور نے جو مہم جوئی کی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ، حالانکہ الیکشن کمیشن نے قانونی کارروائی کرنے اور گنڈا پور کو آزاد کشمیر سے نکل جانے کے احکامات بھی جاری کئے تھے مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا یہ ہے بھارتی جمہوریت اور پاکستانی جمہوریت کا فرق ۔
ڈسکہ کے الیکشن میں الیکشن کمیشن نے جس دلیری کا مظاہرہ کیا تھا اگر ایسی کارکردگی کا مظاہرہ آزاد کشمیر کا الیکشن کمیشن کرتا تو انتخابی نتائج کے مختلف ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا اورجہاں تک انتخابات میں حکومتی کارکردگی کا تعلق ہے تو یہ دیانت داری پر منحصر ہوتی تو کوئی بھی دھاندلی کا شور برپا نہ کرتا ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی شخص اپنی شکست تسلیم کرنے کا خوگر نہیں، ہمارے سیاست دانوں کی سمجھ میں یہ بات کب آئے گی کہ ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے اگر کوئی امیدوار نہ ہارے تو نتائج کا اعلان کیسے ممکن ہے ۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے امتحانی نتائج میں یہ تبدیلی فرمائی تھی کہ کسی بھی امیدوار کو ناکام قرار دنہیں دیا جائے گا جو طالب علم امتحان گاہ میں جائے گا اسے نو فیل نو پاس کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ مگر نو فیل نوپاس کا سرٹیفکیٹ رکھنے والے طالب علموں کا کیا بنا ، حکومتی سطح پر کسی بھی ادارے نے اسے تسلیم نہیں کیا اس حقیقت سے سبھی آگاہ ہیں کہ پاکستان میں رائج انتخابی عمل کچھ اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ انتخاب میں کامیاب ہونے کیلئے امیدوارکی ذاتی صلاحیت اور اہلیت کے علاوہ بھی بہت سے مدارج طے کرنا ہوتے ہیں۔ مگر ان میں ذاتی تعلقات اور نیک نامی پر برادری کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہتا ہے ۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے الیکشن کو حکومت نے متنازعہ بنا دیا ہے ۔الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل نہ کرنے سے وہاں پرتشدد واقعات رونما ہوئے مگر حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا الیکشن کمیشن کے احکامات کو ہوا میں اڑانا ہوائی فائرنگ کرنا مارپیٹ اور قتل گری قومی ورثہ بنتی جارہی ہے ۔