20 سال سے افغانستان مسترد ریاست تھا؟

179

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا تو افغانستان مسترد ریاست بن جائے گا۔ کوئی بھی ملک اسے قبول نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے میدان جنگ میں شکست کے بعد پروپیگنڈے کا محاذ سنبھال لیا ہے اور کہتے ہیں کہ طالبان کا 90 فی صد افغانستان پر کنٹرول کا دعویٰ غلط ہے۔ ٹونی بلنکن نے دھمکی دی ہے کہ افغانستان پر طالبان نے زبردستی کنٹرول کیا تو اس کو امریکا سمیت بین الاقوامی امداد بھی نہیں ملے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ 20 برس افغانوں سے پٹنے کے بعد فرما رہے ہیں کہ امریکامسئلیکے فوجی حل کی حمایت نہیں کرتا۔ وہ طالبان کے دعوئوں کو جھوٹ اور اپنے دعوئوں کو سچ قرار دے رہے ہیں لیکن مسٹر بلنکن ذرا یہ تو بتائیں کہ افغانستان کی منتخب حکومت کو بمباری کے ذریعے گراکر امریکا نے وہاں 20 برس سے زبردستی کی حکومت مسلط کررکھی تھی تو کیا اس عرصے میں افغانستان مسترد ریاست تھا۔ یہ بات تو ہمیشہ کی طرح اٹل ہے کہ کہیں اسلام یا اسلام پسند لوگ اقتدار میں آگئے تو ان کا اقتدار تسلیم نہیں کیا جائے گا اور غیر ملکی افواج کی مدد سے جو حکومت قائم کی جائے گی وہ تسلیم کی جائے گی۔ افغانستان اور عراق کی حکومتیں اس کی واضح مثال ہیں۔ جہاں تک حکومتوں کو تسلیم کرنے کا تعلق ہے تو امریکی چھتری تلے افغانستان کی حکومت کو امریکا اور مغرب نے تسلیم کروایا۔ دنیا ان کی غلام بنی ہوئی تھی۔ اور جب طالبان کی حکومت آئی تو پاکستان، سعودی عرب، قطر اور امارات نے اسے تسلیم کیا اور چند ایک ریاستوں نے بعد میں تسلیم کیا لیکن یہ عالمی دبائو تھا جس نے طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنے سے دنیا کو روک رکھا تھا۔ سو اب بھی وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکیں گے۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ بھول گئے کہ امریکا نے امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت سے مذاکرات کیے ہیں اور وعدہ جنگ بندی کا کیا تھا۔ طالبان نے بھی واضح کردیا تھا کہ ہم خود پہل نہیں کریں گے اور کہیں سے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم جواب دیں گے اور وہ ایسا ہی کررہے ہیں لیکن امریکا نے تو انخلا سے قبل ہی بمباری کی دھمکی دے دی تھی۔ اور اب بمباری شروع بھی کردی۔ امریکا انخلا کا وعدہ کرچکا ہے اسے اب افغانستان سے نکل جانا چاہیے اور افغانوں کو اپنی پسند کی حکومت سازی کا اختیار مل جانا چاہیے۔ لیکن لگتا ہے اقوام متحدہ سمیت سب کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغانستان سے پاکستان پر حملے کرسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ ٹی ٹی پی بھتہ خوری اور اسمگلنگ سے فنڈز اکٹھا کررہی ہے۔ افغانستان کے 15 صوبوں میں دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ یہ خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اس بیان میں اقوام متحدہ اور امریکا کا سارا منصوبہ موجود ہے۔ امریکا خطے کے لیے 15 صوبوں میں دہشت گرد گروہ چھوڑ کر بلکہ تیار کرکے جارہا ہے۔ ان کو چند روز میں بھتوں سے اتنی رقم وصول نہیں ہوئی ہوگی جتنی پاکستان نے ثبوت دیے ہیں، کہ افغانستان میں گروہوں کو مسلح کیا جارہا ہے اور بھارت ان کی کفالت کررہا ہے۔ ان کا نام ٹی ٹی پی رکھ دیں، داعش رکھ دیں یا را رکھ دیں، اصل میں تو یہ سب امریکی ایجنٹ ہیں جو پاکستان کو پریشان رکھنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو امریکا سے سوال کرنا چاہیے کہ 20 سال میں کیا بھاڑ جھونکا اور اس کے سابقہ دعوے درست تھے یا اب اقوام متحدہ کی رپورٹ درست ہے۔ امریکا نے تو پورے افغانستان میں امن قائم کردیا تھا، ایک عورت چمن سرحد سے سونا اچھالتی تاجکستان اور ازبکستان تک چلی جاتی تھی۔ ایسا تو نہیں تھا۔ بلکہ امریکیوں کی موجودگی میں بھی نہایت سنگین وارداتیں ہوتی رہتی تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے دعوے اور بیانات امریکا کی بدنیتی ظاہر کرنے کے لیے کافی تھے کہ جنرل میکنزی کے حکم پر بمباری اس کا ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ نے شہری آبادی پر امریکی بمباری کا کیا نوٹس لیا؟ اسپتال، مسجد، بازار کیا یہاں طالبان تھے۔ اسپتال کی عمارت تباہ کردی گئی۔ طالبان نے واضح دھمکی دی ہے کہ اب جواب دیا جائے گا اور ظاہر ہے یہ جواب افغان فورسز کو ملے گا یا امریکیوں کو۔ طالبان کا کوئی حملہ افغان شہریوں، بازاروں، مسجدوں، اسپتالوں پر نہیں ہوتا۔ یہ کام جنگی جرائم کے بادشاہ امریکا کا ہے اور وہی یہ کرتا ہے یہ وہی لوگ ہیں جن سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ پھیلائو تو یہ فساد پھیلاتے اور کہتے تھے کہ ہم تو اصلاح کررہے ہیں۔ حالاں کہ یہی مفسدین ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کی باتوں کا جواب یہی ہے کہ دنیا نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا لیکن امریکا نے تسلیم کیا ہے اور اب وہ کسی سے نہیں کہہ سکتا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مسترد کرو۔ اور زبردستی کی ریاست تو اسرائیل ہے اس کا پورا وجود زبردستی کا ہے۔ اس ناجائز ریاست کو اب ساری دنیا سے دبائو اور دھونس کے ذریعے تسلیم کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اپنے تضادات پر نظر ڈالیں پھر زبان کھولیں۔انہیں دنیا سے کہنا چاہیے کہ فلسطین کے عوام کو بے دخل کر کے زبر دستی قائم کی گئی ریاست اسرائیل مسترد ریاست ہے۔اسے قبول نہ کیا جائے۔