کشمیر کا الیکشن یا سودا

183

آزاد کشمیر میں کوئی نیا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں جس کی مرکزی حکومت ہوتی ہے وہی کشمیر میں اپنی نمائندہ حکومت بناتا ہے۔ کبھی نام ایک نہیں ہوتا کبھی ایک ہی ہوتا ہے۔ چناں چہ پی ٹی آئی کامیاب قرار پائی۔ دھاندلی کے الزامات ہمیشہ لگائے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی لگے ہیں اور دھاندلی بھی خوب ہوتی ہے۔ اس مرتبہ بھی ہوئی ہے۔ زبردستی پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی۔ لیکن جو کچھ ہورہا ہے وہ بڑا خطرناک ہے کیوں کہ یہ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب مودی کشمیر کو ہڑپ کرچکا ہے اور کچھ عرصے میں وہ اقوام متحدہ سے استصواب کرانے کا مطالبہ بھی کردے گا تا کہ پورا کشمیر ہڑپ کرسکے۔ یہ ایسی ہی کیفیت ہے جو پی ٹی آئی اور دیگر ترقی پسند مغل بادشاہوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ انگریز ہندوستان پر قبضہ کررہا تھا اور یہ بادشاہ اور شہزادے اپنے جھگڑوں میں پڑے تھے یا عیاشیوں میں۔ آج سندھ حکومت کے شہزادوں کو دیکھ لیں پنجاب کے شہزادوں کو دیکھ لیں یا کے پی کے اور مرکز کے… تمام شہزادوں کی شاہ خرچیوں اور عیاشیوں میں اضافہ ہی ہورہا ہے اور مودی کشمیر ہڑپ کررہا ہے۔ پی ٹی آئی نے کشمیر کا الیکشن ہڑپ کرلیا لیکن مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ہمارا مغل تاجدار کہتا ہے کہ آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کرائیں گے کہ پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا ہندوستان کے ساتھ۔ اس سے زیادہ افسوسناک حالات اور کیا ہوسکتے ہیں۔ اسی کو کشمیر کا سودا کہتے ہیں۔یہ حکمران کب سنجیدگی اختیار کریں گے۔کہنے کو آزاد کشمیر تحریک آزادیٔ کشمیر کا بیس کیمپ ہے لیکن یہ تو پاکستانی سیاسی لٹیروں کا اکھاڑا ہے ۔