قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

124

 

اور رات کو پردہ پوش۔ اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔ اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے۔ اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا۔ اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی۔ تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی۔ ور گھنے باغ اگائیں؟۔ بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا۔ (سورۃ النباء:10تا19)

قبیصہ، سفیان، اعمش، ابراہیم تیمی، حارث بن سوید، عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت میں آپؐ کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا تو بہت تیز بخار میں مبتلا پایا میں نے عرض کیا کہ آپ کو تو بہت تیز بخار ہے اور یہ اس سبب سے کہ آپ کے لیے دوہرا اجر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور جس مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جس طرح درختوں سے پتے جھڑ جاتے ہیں۔(صحیح بخاری)