‘سندھ حکومت کی نا اہلی اورپی ٹی آئی کی چھتری’

217

انتخابات میں عموماً الزامات انکشافات اور جھوٹ سچ کی آمیزش کے ساتھ مہم چلتی ہے۔ ہر پارٹی دوسرے پر الزامات لگاتی ہے لیکن بعض الزامات اس انتخابی مہم میں بڑے سنگین لگائے گئے ہیں ۔  اگرچہ سیاسی مخالفین کا معاملہ ہے لیکن اس سے براہ راست کروڑوں عوام متاثر ہو رہے ہیں۔  

پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن نے الزامات لگائے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ کا لوٹا ہوا پیسہ آزاد کشمیر کے انتخابات میںلگا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے مزید وضاحت کی ہے کہ جس پارٹی کی12 برس سے سندھ میں حکومت ہے اسے کتے کے کاٹے کی ویکسین نہیں مل رہی ،دل کی تکلیف کی دوا نہیں ملتی ۔  اسے بچوں کی ویکسین نہیں ملتی، ڈاکٹرنہیں ملتے، دوائیں نہیں ملتیں، سڑکیں بنانے کے لیے پیسے نہیں ہیں ، گٹر صاف کرنے کا فنڈ نہیں ہے ۔ بجلی نہیں ہے ۔ امن وامان نہیں ہے اس کے پاس ہر جگہ شراب ،چرس اور نشہ پہنچانے کے لیے دستیاب ہے اس کا پیسہ لے کر یہ لوگ کشمیر پہنچے ہیں اور ووٹ خرید رہے ہیں۔

اگرچہ حلیم عادل شیخ اپنے مزاج میں حلیم نہیں اپنے کردار میں عادل نہیں اورصرف شیخ ہیں لیکن ان کے الزامات چونکہ سندھ کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، پورے سندھ کے لوگ ان چیزوں کو برسہا برس سے بھگت رہے ہیں، اس لیے ان پر یقین آتا ہے اور یقین کرنے کی وجوہات بھی بہت ٹھوس ہیں ۔ یہی الزامات دوسری پارٹیاں بھی لگاتی ہیں۔

سندھ میں جی ڈی اے نے کھل کر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں اگر یہی باتیں جماعت اسلامی بھی کہہ دے تو اسے جماعت اسلامی کی سیاست کہا جاتا ہے لیکن جماعت اسلامی سے زیادہ شفاف حکمرانی اور خدمت کرنے والا کون ہے اس کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے13 برس میں کراچی کو مسلسل تباہ کیا ہے ، سڑکیں ،گٹر،پانی ، بجلی ، اسٹریٹ لائٹس اور اب قربانی پر آلائشوں کی صفائی ، کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا ، سب صرف فنڈز اور پیسہ پیسہ کر رہے ہیں ۔اگر دعوئوں کا حال دیکھیں تو ان کا بھی یہی حال ہے۔

 در اصل مرکز میں پی ٹی آئی کی سلیکٹڈ مسلط کردہ حکومت کی نالائقیوں کا گراف اس قدر بلند ہے اور اس پر اس قدر تنقید ہوتی ہے کہ اس شور میں پاکستان کا اہم صوبہ چھپ گیا ہے ۔ پاکستانی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی اسی صوبے میں ہے ۔ زرعی اعتبار سے چاول ، چینی ، گندم اور صوبے کی اہم پیدا وار ہیں ۔ اس صوبے سے سب سے زیادہ ٹیکس حاصل ہوتا ہے لیکن پاکستان کا سب سے بڑا شہر جو اس صوبے کا دار الحکومت کہلاتا ہے ۔ اس میں سوائے چند مخصوص علاقوں اور سڑکوں کے کچھ سلامت نہیں، پورا شہر کھنڈر بنا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کی نا اہلی نے ملک میں اس سے بڑی نا اہل پیپلزپارٹی کی بد عنوانیوں اور نا اہلی پر پردہ ڈال دیا ہے۔  پی ٹی آئی تو پیپلز پارٹی کی نااہلی کے نام پر ہی آئی ہے۔ صرف ایک مسئلہ لے لیں، ناصر حسین شاہ ، سعید غنی اور وزیر ٹرانسپورت اویس قادر شاہ نے2017ء سے اب تک نصف درجن ، مرتبہ کراچی میں ہزار بسیں ، 1 ہزار بسیں ، 500 بسیں ، 100 بسیں، 90 بسیں چلانے کے اعلان کیے ہیں ۔  یہ اعلان پانچ سال بعد کے نہیں تھے اگلے 90 دن میں، اگلے مہینے میں، اسی مہینے میں کے نام پر کیے گئے تھے ۔ پتا نہیں کہاں سے 10بسیں لا کر افتتاح کر دیا گیا۔

 اس کارکردگی پر تو اس پارٹی کے اپنے کارکنوں کو اپنے وزیروں اور لیڈروں کا انڈوں اور ٹماٹروں سے استقبال کرنا چاہیے ، عوام ان کو جہاں دیکھیں پوچھیں کہ ہمارے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا ہے ۔بسیں کہاں ہیں ، سڑکیں کہاں ہیں ۔  منصفانہ نظام کیوں نہیں ہے ۔ جعلی ڈومیسائل کون بنا رہا ہے ۔  جعلی لیز کون بنا رہا ہے، رجسٹرار آفس کس کے قبضے میں ہے ۔ سائٹ پر کس کی حکمرانی ہے ۔  سندھ کو85فیصد ٹیکس کون سا شہر دیتا ہے ۔ اس شہر کو جواباً کیاملتا ہے ۔ اب یہ تو کہنا ہی بے بنیاد ہے کہ کراچی میں کسی ایک خاص نسل رنگ یا علاقے کے لوگ رہتے ہیں ۔ اس شہرمیں لاکھوں پختون ہیں، لاکھوں سندھی ہیں ، لاکھوں پنجابی ہیں ، لاکھوں سرائیکی ہیں اور لاکھوں لوگ دوسرے مختلف علاقوں کے ہیں۔

بارہ برس میں سندھ حکومت نے آبادی کا تناسب بھی بدل دیا اور سرکاری ملازمتوں پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعے قبضے بھی کر لیے ۔ اس شہر سے انہیں صرف روپے کے لیے تعلق ہے ۔  یہ روپیہ صرف کشمیر کے الیکشن میں نہیں لگ رہا بلکہ یہ حکمرانوں کے وسائل اور پر تعیش زندگی پر بھی خرچ ہوتا ہے کراچی و حیدرآباد تو اس صوبے کے بہترین شہر تھے ۔ اب بد ترین ہیں ۔ لیکن اگرلاڑ کانہ ، نواب شاہ ، خیر پور ، ٹنڈو آدم ،سکھر وغیرہ کی ترقی کر کے انہیں لندن و پیرس نہ سہی نعمت اللہ خان اور افغانی صاحبان کے دور کا کراچی ہی بنا دیا گیا ہوتا تو سندھ کی آبادی کے بہت سارے لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہماری پارٹی کام کرتی ہے لیکن یہاں تو پورا صوبہ یکساں محرومی کا شکار ہے۔

دوسروں نے تو بہت کہہ لیا اب تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے اور اسے لانے والوں کو سوال کرنا چاہیے کہ ہمارے ٹیکس کے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں ۔ ہم عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کوبھکاری کہتے ہیں ذرا دو تین ماہ کے بیانات تو دیکھیں سندھ حکومت کیا کرتی ہے ۔ مرکز فنڈز نہیں دے رہا ۔ بین الاقوامی ادارے امدادکریں۔  ہائے کوئی مدد کرے ۔  یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ زیادہ نا اہل اوربڑابھکاری کون ہے؟