پراسرار ممّی

192

آثارِ قدیمہ کا سب سے بڑا اسرار دنیا کی وہ سب سے چوٹی ممی ہے جس کی لمبائی صرف 14 انچ ہے۔ یہ اتنی قدیم ہے کہ تاریخ میں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

اکتوبر 1932 میں سونے کی تلاش میں چٹانوں کے نمونے حاصل کرنے والی پارٹی نے پیڈرو پہاڑ کے دامن میں اپنی کھوج شروع کی۔ یہ جگہ کیسپر کے مغرب میں 60 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

چنانچہ انہوں نے پتھر میں پہلے سے زیادہ گہرا سوراخ کرنا شروع کردیا، طاقتور بارودی دھماکے سے پتھریلی چٹان میں ایک گہری کھوہ نمودار ہوئی جو 4 فٹ چوڑی  اور 15 فٹ گہری تھی۔ جب دھواں اور گرد چھٹ گئی تو انہوں نے اس غار میں جھانکا اور وہاں انسانی شکل کی ایک ننھی منی ممی کو دیکھ کر لرز گئے۔

غار میں ایک چھوٹی سی ممی تھی جو اپنے بازوؤں پر بیٹھی ہوئی تھی، اس کا چہرہ شکن آلود تھا اور یہ کسی قدر بندر سے مشابہ تھی، آنکھیں ایک خاص زاویے پر نیچے جھکی ہوئی تھیں۔

کان کنوں نے اسے بڑے احتیاط سے اٹھایا اور کمبل میں لپیٹ کر کیسپر لے آئے جہاں اس دریافت کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ سائنسدان حیران تھے کہ اس ممی کو کیسے ایک چٹان کے اندر دفنایا گیا؟۔ ایکسرے میں بھی ہڈیوں کی بناوٹ سے صاف ۔ معلوم ہوگیا کہ یہ واقعی کسی انسان کی ممی ہے۔

ماہرین حیاتیات جنہوں نے اس کا معائنہ کیا، انہوں نے دعویٰ کیا یہ کسی بوڑھے انسان کی ممی ہے اور مرتے وقت اس کی عمر 65 کے قریب رہی ہوگی۔ تاہم اس کی موت کیسے ہوئی اور اسے پہاڑ کے اندر کیسے رکھا گیا، سائنسدانوں کیلئے یہ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے۔