اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی تشدد سے شہید

147
مغربی کنارہ: اسرائیلی قبضے کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد مظاہروں میں صہیونی فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے والوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی جلادوں کے ہولناک تشدد اور غیر انسانی سلوک کے نتیجے میں 43 سالہ فلسطینی شہری عبدہ یوسف خطیب تمیمی ٹارچر سیل میں شہید ہوگیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران نے خطیب تمیمی کی دوران حراست وحشیانہ تشدد سے شہادت کی تصدیق کی ہے۔امور اسیران کے مشیر حسن عبد ربہ نے بتایا کہ شہید ہونے والے فلسطینی شہری کا تعلق بیت المقدس میں شعفاط کیمپ سے تھا، جسے چند روز قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ اہل خانہ نے تمیمی کی شہادت کی ذمے داری صہیونی ریاست پرعائد کرتے ہوئے اسے ماورائے عدالت مجرمانہ قتل قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تمیمی کا بے دردی سے قتل قابض صہیونی ریاست کے مکروہ جرائم میں ایک اور اضافہ ہے۔ شہید کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ تمیمی کو حراست میں لیے جانے کے بعد اسرائیلی حراستی کیمپ میں غیرانسانی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ صہیونی دہشت گرد پولیس نے انہیں بتایا کہ تمیمی دل کا دورہ پڑنے سے دم توڑ گیا ہے۔شہید خطیب 4 بچوں کا باپ اور خاندان کا اکیلا کفیل تھا۔ دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں آدھے گھنٹے کے تعاقب کے بعد ایک فلسطینی نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ اس کی گرفتاری غوش عتصیون یہودی کالونی کے قریب سے عمل میں لائی گئی۔اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل 7 کے مطابق فلسطینی نوجوان ایک یہودی کالونی کے قریب تھا۔ اس نے یہودی کالونی کے قریب ایک کھیت کو آگ لگا دی۔یہ کھیت جبل جیلو اور گوش عتصیون کے درمیان ہے۔