آزاد کشمیر کے انتخابات

167

آزاد کشمیر میں انتخابی مہم بلندیوں کو چھونے کے بعد 23 جولائی کی شب اختتام کو پہنچ گئی۔ اب اتوار 25 جولائی کو پولنگ یا رائے دہی کا مرحلہ درپیش ہے جس میں کشمیر کے عوام آئندہ پانچ سال کے لیے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں گے اور پچیس جولائی کی شام فیصلہ ہوجائے گا کہ کشمیر کے عوام کس سیاسی جماعت کو حق حکمرانی دینا چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کل 45 حلقوں میں انتخابات ہورہے ہیں جن پر مجموعی طور پر 708 امیدوار میدان میں ہیں، آزاد کشمیر کے انتخابات اس لحاظ سے پاکستان سے قدرے مختلف ہیں کہ ان انتخابات میں تمام حلقہ بندیاں کشمیر کی سرزمین تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے بھی اسمبلی میں خاطر خواہ حصہ رکھا گیا ہے۔ آزاد خطے میں 33 حلقے بنائے گئے ہیں جن پر امیدواروں کی تعداد 587 ہے جن میں سے دوسو سے زائد امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے بارہ نشستیں مختص ہیں جن پر 121 امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ مہاجرین کی بارہ میں سے آٹھ نشستیں پنجاب، دو صوبہ خیبر اور دو کراچی میں مقیم کشمیری باشندوں کے لیے مخصوص ہیں۔ مہاجرین کی ان بارہ نشستوں میں سے تحریک انصاف نے ہر نشست پر اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے گیارہ، گیارہ اور مسلم کانفرنس نے دس نشستوں پر امیدوار نامزد کیے ہیں۔ ان حلقوں میں 56 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ آزاد کشمیر کی 45 نشستوں کے لیے کشمیر کے اندر اور پاکستانی حدود میں مہاجرین کی حیثیت سے مقیم 32 لاکھ سے زائد کشمیری باشندے 25 جولائی کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جبکہ پاکستان کی بڑی ہونے کی دعویدار تحریک انصاف، نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس اور تحریک لبیک سمیت 26 سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ قبل ازیں زیادہ تر اگرچہ کشمیر کے انتخابی نتائج عموماً ایسے رہے ہیں کہ پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہو وہی یا پھر اس کی حمایت یافتہ کشمیر کی مقامی سیاسی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی اور کشمیر میں حکومت بناتی رہی ہے کچھ برسوں سے اگرچہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے براہ راست کشمیر کی سیاست میں مداخلت اور انتخابات میں حصہ لینا شروع کردیا ہے تاہم اس کے باوجود آزاد کشمیر کی سیاست کی اپنی منفرد شناخت بڑی حد تک برقرار رہی، امسال البتہ پاکستان کی نمایاں سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت نے براہ راست کشمیر کے انتخابات میں مداخلت کی ہے اور پاکستان کی سیاست میں موجود محاذ آرائی نفرت اور الزام تراشی کی تمام ناپسندیدہ روایات کو کشمیر کے ماحول میں بھی منتقل کردیا ہے۔ نواز لیگ کی مرکزی نائب صدر میاں محمد نواز شریف کی دختر مریم نواز، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پراسرار دورہ امریکا کے وقفہ میں آصفہ بھٹو جبکہ حکمران تحریک انصاف کی حکومت کے دفاعی وزرا بلکہ خود وزیراعظم عمران خان نے بھی کشمیر جا کر انتخابی جلسوں سے خطاب ہی نہیں کیا بلکہ مخالفین پر ہر طرح کے الزام عائد کرنا اور گند اچھالنا بھی ان تمام ’’قومی قائدین‘‘ نے ضروری سمجھا ہے۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر تو اس حد تک چلے گئے کہ الیکشن کمیشن کو ان کے کشمیر میں داخلے اور انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنا پڑی مگر انہوں نے اس پابندی کا احترام کرنے کے بجائے کھلے بندوں اس کی خلاف ورزی کی۔ حتیٰ کہ خود وزیراعظم عمران خان کے جلسہ میں بھی وہ نہ صرف شریک ہوئے بلکہ ان کی موجودگی میں خطاب بھی کیا۔ ان کے اس طرز عمل سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے آئین و قانون کے احترام کے دعوئوں میں کس قدر حقیقت ہے۔ بہت بہتر ہوتا کہ ملک کے یہ اہم ترین رہنما اپنی انتخابی مہم میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو موضوع بناتے، وہاں بھارتی حکومت کے مظالم خصوصاً پانچ اگست 2019ء کے مودی حکومت کے اقدام اور اس کے بعد مسلسل دو برس سے جاری لاک ڈائون اور کرفیو کی کیفیت کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے اس موقع کو استعمال کرتے، مقبوضہ کشمیر کی آزادی، اور وہاں کے مظلوم عوام کو بھارتی فوج کے ظلم و ستم سے نجات دلانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسلم حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنے لائحہ عمل اور حکمت عملی سے متعلق کشمیری عوام کو آگاہ کرتے جس کے نتیجے میں آزاد اور مقبوضہ خطے کے عوام کے جذبہ حریف کو تقویت ملتی اور انہیں اپنی جدوجہد مزید تیز کرنے کا حوصلہ ملتا، مگر سیاسی رہنمائوں نے کشمیر کی سرزمین پر بھی اپنے گندے کپڑے دھونے کو ترجیح دی اور باہم گالم گلوچ، ایک دوسرے کو ڈاکو، چور اور لٹیرے کے القابات سے نوازنے، کشمیر فروش اور غدار قرار دینے پر تمام توجہ مرکوز رکھی۔ اس طرزِ عمل نے ملک کے محب وطن اور کشمیر کی آزادی کے خواہاں اور اس کے لیے کوشاں حلقوں کو مایوس کیا ہے۔ ہمارے قومی رہنمائوں کے رویہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریف پسند عوام کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ کسی کو بھی اپنی اس غلط روی کا قطعاً کوئی احساس تک نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے انتخابی مہم کے آخری روز 23 جولائی کو تراڑ کھل میں جلسہ سے خطاب کیاالبتہ مرد مجاہد، قائد حریت سید علی گیلانی، جنہوں نے تمام عمر جدوجہد آزادی میں بسر کی اور ہر طرح کے مصائب اور قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں مگر اپنے موقف میں ذرا برابر لچک نہیں آنے دی۔ وہ آج بھی کشمیر کی آزادی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور بھارتی فوج کی نظر بندی اور قید کو خندہ پیشانی سے جھیل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سید علی گیلانی کی جدوجہد اور یٰسین ملک کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں زور دار الفاظ میں خراج تحسین تو پیش کیا مگر اس تقریر کے دوران مخالفین کی جانب سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایک نیا شوشا چھوڑ دیا کہ کشمیریوں کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں رائے شماری کے بعد وہ ایک اور ریفرنڈم کرائیں گے کہ کیا کشمیری پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ جناب عمران خان کو کون سمجھائے کہ جب اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہوگی تو وہ اس میں یہی فیصلہ سنائیں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ، اور جب کشمیری عوام یہ فیصلہ دے دیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا اور الحاق کرنا چاہتے ہیں تو جناب عمران خان کے تجویز کردہ ایک نئے ریفرنڈم کی کوئی گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ بہرحال انتخابی مہم جیسے تیسے اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب انتخابات کا مرحلہ ہے تاہم انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی طرز عمل کے سبب پیدا شدہ کشیدگی کے پیش نظر آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کو پرامن رکھنے کی خاطر آئین کی دفعہ 245 کے تحت فوج طلب کرلی ہے۔ جس نے 22 جولائی سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور 26 جولائی تک وہ یہ فرائض ادا کرے گی۔ رینجرز، ایف سی اور پولیس وغیرہ کی نفری فوج کے علاوہ ہوگی۔ ماضی میں مختلف سیاستدانوں خصوصاً ہارنے والوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کے پیش نظر آئی ایس پی آر نے ابھی سے وضاحت کی ہے کہ فوج محض امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔ انتخابی عمل اور ان کے نتائج وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ گویا انتخابات کو صاف، شفاف، غیر جانبدارانہ اور قابل اعتماد بنانا الیکشن کمیشن کے عملے کی ذمہ داری ہوگی۔ سیاست دانوں نے جو کچھ کرنا تھا، اچھا یا برا وہ کرچکے، اب عوام یعنی رائے دہندگان کی یہ ذمہ داری ہے کہ پچیس جولائی کو اپنے گھروں سے نکلیں اور ہر طرح کے لالچ، رنگ و نسل، ذات برادری اور فرقہ واریت وغیرہ کے تعصبات اور تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو صاف اور امین ہوں، اسلام اور نظریہ پاکستان کے وفدار، دیانت دار، خلافت گزار اور حریف شعار ہوں تا کہ خطے کی آزادی اور خوش حالی کی منزل کی جانب پیش رفت تیز تر ہوسکے۔