عبوری حکومت کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے،طالبان

133

کابل(آ ن لائن+صباح نیوز ) افغان طالبان نے کہاہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے افغانستان امن نہیں آسکتا، امن معاہدے کی کامیابی کے لیے اشرف غنی کو عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اقتدار کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ماضی میں افغانستان میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے والی حکومتیں کامیاب نہیں ہوئیں لہٰذا ہم اسی فارمولے کو دہرانا نہیں چاہتے۔سہیل شاہین نے مذاکرات کو ایک اچھا آغاز قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتیں بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ اشرف غنی کا اقتدار میں رہنا طالبان کے سرینڈر کرنے کے مطالبے میں رکاوٹ ہے، اشرف غنی مفاہمت نہیں چاہتے مگر وہ چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں۔ طالبان ترجمان نے کہا کہ کسی بھی جنگ بندی سے پہلے ایک نئی حکومت کے لیے معاہدہ ہونا چاہیے جو ہمارے اور دیگر افغانوں کے لیے قابل قبول ہو، پھر جنگ نہیں ہوگی۔سہیل شاہین نے کہا کہ اس نئی حکومت کے تحت خواتین کو کام کرنے، اسکول جانے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں حجاب یا سر پر اسکارف پہننا پڑے گا،خواتین کو گھر سے نکلنے کے لیے ان کے ساتھ مرد سربراہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور نئے قبضہ ہونے والے اضلاع میں طالبان کمانڈروں کو یہ حکم ہے کہ یونیورسٹیز، اسکولوں اور بازاروں میں پہلے کی طرح کام جاری رہے گا جس میں خواتین اور لڑکیوں کی شرکت بھی شامل ہے۔ترجمان کے بقول چند طالبان کمانڈرز نے جابرانہ اور سخت رویے کے خلاف قیادت کے احکامات کو نظرانداز کیا ہے اور ان میں سے متعدد کو طالبان کے ایک فوجی ٹریبونل کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور انہیں سزا دی گئی ہے۔ سہیل شاہین نے کہا کہ کابل پر فوجی دبا ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اب تک طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے سے خود کو روکا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں زیادہ تر کامیابی انہیں لڑائی سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔علاوہ ازیں طالبان نے صوبہ ہلمند کے 2اضلاع پر کنڑول حاصل کر لیا۔ بڑے پیمانے پر اسلحہ، گاڑیاں اور گولہ بارود قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج نے طالبان کیخلاف فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کا کہنا ہے کہ افغان فوج کی مدد کے لیے مزید حملے بھی جاری رکھیں گے۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان کے نصف سے زیادہ مرکزی اضلاع کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں جبکہ امریکی انٹیلی جنس نے اندازہ لگایا ہے کہ افغان حکومت کا تختہ 6 مہینے میں الٹ سکتا ہے۔