میٹھا کھانے سے منفی اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟

392

عید پر میٹھا، حلوہ ، کیک، کولڈ ڈرنک  اور بہت کچھ  ۔۔۔ عام طور پر کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے لیکن میٹحی غذائیں (شکر یا چینی) اگر حد سے زیادہ استعمال کی جائیں تو وہ صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اسی لیے میٹھی غذاؤں کا استعمال اعتدال میں ہونا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زندگی سے میٹھا نکل جائے تو یقیناً زندگی بے رونق ہوجائے گی مگر اس کے صحت پر بے شمار طبی فوائد مرتب ہوتے ہیں جن میں جسم کا اپنی اصل ساخت میں آ جانا،  شریانوں میں خون کی روانی برقرار رہنا،  شوگر جیسی خاموش اور خطرناک بیماری سے بچاؤ،  کم عمر نظر آنا،  چہرے پر جھریوں کا عمل رُک جانا شامل ہے۔

 میٹھا ترک کرنے یا کم کرنے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے اور لیکن اگر چینی ترک کردی جائے تو جسمانی وزن میں کمی آتی ہے اور چربی بھی پگھلنا شروع ہوجاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق انسان چینی یا شکر کا استعمال چھوڑ دے تو وہ جسم میں ورم، سوجن اور سوزش سے بچ سکتا ہے اور ساتھ ہی نزلہ، زکام یا بخار وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جبکہ الرجی اور دمہ کی علامات سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک سے بھی بچاتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ  چینی دانتوں میں لگنے والی کیوٹیز کا باعث بنتی ہے اور سکون کی نیند میں خلل بھی پیدا کرتی ہے، کیوں کہ اگر سونے سے قبل میٹھا کھایا جائے تو شوگر لیول کم ہوتا ہے اور پسینہ بھی بہت زیادہ آتا ہے لیکن اگر میٹھا چھوڑ دیں تو تین سے چار دن میں نیند کا معیار بہتر ہوجائے گا۔

ڈاکٹر ہشام ضیا الدین کیمبرج یونیورسٹی میں محقق کا خیال ہے کہ وزن کم کرنے اور دانتوں کی صحت کے حوالے سے چینی کی مقدار کم کرنے کے فوائد ہیں لیکن ان کے نتائج واضح تھےاسے مکمل طور پر چھوڑ دینے کی اور بات ہے جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چینی کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ضیا الدین کہتے ہیں کہ کم نہیں، نہ ہی زیادہ،  متوازن غذا لینی چاہیے۔