خطبۂ حج کا پیغام

203

مسلمانوں کی قوت اور اتحاد کے مظہر حج کے رکن اعظم میں مسلمان ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے صفوں میں خلا کے ساتھ تعداد میں قلیل ترین بلکہ رسول اللہؐ کے حجتہ الوداع کی تعداد کا بھی نصف لوگ مسجد نمرہ میں جمع تھے۔ جس طرح دنیا کے دیگر مسلم حکمرانوں کا حال ہے وہی حال سعودی حکمرانوں کا بھی ہے۔ چناں چہ انہوں نے ایس او پیز کے نام پر عبادات کو بھی متاثر کردیا۔ لیکن خطبہ حج میں امام بندرابن عبدالعزیز بلیلہ نے جو کچھ کہا ہے امت مسلمہ کے لیے اس میں بھی بہت کچھ سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عداوت اور نفرت کو ختم کرنا چاہیے۔ یہ عداوت اور نفرت مسلمانوں کے درمیان بھی آپس میں ہے لیکن مسلمانوں سے عداوت اور نفرت دراصل مغڑب یہود عیسائیوں اور ہندوئوں میں ہے۔ اور اس نفرت اور عداوت کا اظہار وہ سازشوں کے ذریعے کرتے رہتے ہیں۔ امام بلیلہ نے فرمایا کہ اللہ زمین پر فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ آج کل قرآن کے پیغام اور الفاظ کے مطابق دنیا بھر میں فساد پھیلانے والے یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ حالاں کہ یہی فساد پھیلانے والے ہیں۔ امام بلیلہ نے فساد سے بچنے کا راستہ بھی قرآن پاک سے بتایا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، یہ اللہ کی رسی اللہ کی کتاب اور سنت رسولؐ ہے اسے تھام کر ہی ہماری نجات ممکن ہے۔ فی الوقت امت مسلمہ جس کرب سے گزر رہی ہے اس کا اندازہ مسلم حکمران نہیں لگا سکتے۔ مسلمان عبادات سے دور کردیے گئے ہیں حرمین کے دروازے بند ہیں اور دوسری طرف عین وقوف عرفہ کے دن برطانیہ میں کورونا پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مسلمانو تم اپنی قوت کے مظہر حج کے موقع پر اس قوت کا مظاہرہ نہ کرسکے اور دیکھو ہم نے پابندی ختم کردی ہماری سڑکیں بازار ریستوران آباد ہوگئے ہیں۔ تضاد صرف ایک دن نہیں دیکھنے میں آیا ہے اس سے قبل یورو کپ فٹبال، ڈیوس کپ ٹینس، جی سیون سربراہ کانفرنس کہیں بھی ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا گیا۔ خطبہ حج میں ہمیں یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ کے ساتھ شریک نہ بنائو۔ اسی طرح نمازوں کی حفاظت کی یاد دہانی کرائی ہے۔ یہ سارے کام اسی صورت میں ہوسکتے ہیں جب ہم دنیاوی خدائوں کی پرستش چھوڑ دیں۔ اس خطبہ حج میں عالم اسلام کے لیے پیغام ہے کہ دنیاوی خدائوں کی پیروی ترک کردیں۔ نمازوں کی حفاظت ان نمازوں کے ایس او پیز کے مطابق کریں نہ کہ دنیاوی خدائوں کے ایس او پیز کے مطابق۔ شیطان کا اتباع نہ کرو۔ اور اس شیطان سے جان تب ہی چھوٹے گی جب ہم اپنے اندر عاجزی پیدا کریں گے، آپس میں محبت پیدا کریں گے، المختصر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں گے لیکن یہ سب کیسے ہوگا ہم اپنے حکمرانوں کو الزام دے کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ ہم اللہ کے سامنے اکیلے کھڑے ہوں گے ہمیں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ہم ان پر عمل کریں۔ جب مسلمانوں کی عظیم اکثریت اپنے اللہ کے ساتھ مخلص ہوجائے گی اور دنیاوی خدائوں کی پیروی چھوڑ دے گی تو ان پر سے ذلت ختم کردی جائے گی۔ عروج اور کامیابی کا راستہ اللہ کی پیروی میں ہے۔ یہی راز ہماری کامیابی کا راز ہے۔