جاسوسی کا انکشاف‘ بیدار رہنے کی ضرورت

161

 

دنیا بھر میں اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعے سیاستدانوں صحافیوں اور تاجروں کی جاسوسی کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں عمران خان، بھارت کے راہول گاندھی بھی شامل ہیں۔ کم و بیش 50 ہزار لوگوں کے فون ٹیپ کیے گئے ہیں، کئی ممالک کی حکومتوں کے مخالفین کی بھی جاسوسی کی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی بھارت کی جانب سے وزیراعظم پاکستان اور کابینہ ارکان کے فون ہیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ اگرچہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہود و ہنود کا پرانا حربہ ہے، یہ جاسوسی کرتے ہیں سازشیں کرتے ہیں اور مسلمانوں پر ہرچہار جانب سے حملے کرتے ہیں۔ لیکن جیسا ردعمل پاکستانی اعلیٰ قیادت نے دیا ہے کہ اب اپنا سافٹ ویئر بنائیں گے۔ یہ کوئی مناسب رویہ نہیں پاکستان کو بھارت سے براہ راست اور مغرب اور اسرائیل سے بھی براہ راست اور بالواسطہ سازشوں کا سامنا رہتا ہے۔ آخر ایسا سافٹ ویئر بنانے کا خیال پہلے کیوں نہ آیا۔ ساری دنیا میں اس خبر پر غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپ بھی اسرائیل سے ناراضی کا اظہار کررہا ہے۔ امریکا کے قومی سلامتی کے سابق عہدیدار ایڈورداسنوڈن نے تو پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ بہرحال یہ خبر اس سال کی بڑی بین الاقوامی خبروں میں سے ہے جس میں تعداد اور افراد کے نام بھی سامنے آگئے ہیں۔ لیکن جاسوسی کا نظام برسوں پرانا ہے اور ہر بیدار حکومت اس کا توڑ بھی کرتی رہتی ہے۔ غیر ملکی اخبارات کے انکشاف کے بعد اپنا نظام بنانے پر غور نہیں کرتی۔ بہرحال پاکستان کو اس نظام کا توڑ تو کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے پہلا قدم پاکستان میں ہر ملک کے لوگوں کو آزادانہ آنے جانے کی اجازت بند کرنا ہوگی۔ یہ امریکی ہے، یہ چینی ہے، یہ جرمن ہے، یہ فرانسیسی ہے اور برطانوی ہے، ان سب سے ہمیں مفادات سمیٹنے ہیں اس لیے ان کے ویزوں کے اجرا کے وقت کاغذات کی جانچ پڑتال میں نرمی کی جاتی ہے۔ سارے جاسوس اسی راستے سے آتے ہیں۔ پہلا قدم اٹھائیں تو پتا چل جائے گا کہ حکومت میں کتنا دم ہے۔