حیدرآباد، عینی بلوچ کے قتل کیخلاف سول سوسائٹی کی احتجاجی ریلی

51

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ کی سول سوسائٹی، وومن ایکشن فورم، یوتھ ایکشن کمیٹی، فاریسٹ ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن حیدرآباد کی جانب سے عینی بلوچ کے قتل کیخلاف اولڈ کیمپس سے احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو پریس کلب پہنچی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حسین مسرت شاہ، ڈاکٹر بختاور جام، نذیر قریشی، سندھو نواز گھانگھرا، ایچ آر سی پی کے ریجنل کوآرڈینیٹر پروفیسر امداد چانڈیو، غفرانہ آرائیں، ایڈووکیٹ علی پلھہ و دیگر نے کہا کہ سندھ میں خواتین پر گھریلو تشدد اور قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، قانون کی رٹ کو سرعام چیلنج کیا جارہا ہے۔ گھریلو تشدد اور خواتین کے قتل کے واقعات میں قانون کی عملداری نہ ہونے کے باعث عینی بلوچ جیسے واقعات ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عینی بلوچ کے قتل کے معاملے پر سارا سندھ صدمے سے دوچار ہے۔ عینی کے شوہر عمر خالد میمن نے گھر کے اندر بدترین تشدد کا نشانہ بناکر بے دردی سے گلا دبا کر معصوم بچوں کے سامنے اسے قتل کیا۔ قاتل کے ورثاء بااثر ہیں جو کہ مقتولہ کے خون کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عینی بلوچ قتل کیس اور سندھ میں عورت پر تشدد کے واقعات روکنے کے اقدامات کرے۔