حیدرآباد ،پاور ہاؤسز کے غریب محنت کش 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

60

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) واپڈا کے بند پاور ہائوسز کو چالو کیا جائے، لاکھڑا کے ملازمین کو چار ماہ کی تنخواہ جاری کی جائے، 25 فیصد ایڈہاک الائونس کا اطلاق کیا جائے، پاور ہائوسز کے غریب محنت کش اپریل سے جولائی تک کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کے باعث فاقہ کشی میں مبتلا ہوچکے، ہم نے متعدد بار وزارت توانائی کے اعلیٰ افسران سے میٹنگ کی لیکن وہ سستی بجلی کے اس پیداواری یونٹ کو بند کرکے 300 ملازمین کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے، جسکی یونین اور ملازمین کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے صوبائی جنرل سیکرٹری اقبال احمد خان نے پریس کلب حیدرآباد کے باہر لاکھڑا، جامشورو اور کوٹری پاور ہائوس کے سیکڑوں ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ دیگر صوبائی عہدیداران اعظم خان، محمد حنیف خان، زونل چیئرمین لاکھڑا پاور ہائوس مظہر ملاح، زونل سیکرٹری غلام رسول ڈیتھو، لونومل بھی موجود تھے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری اقبال احمد خان نے مزید کہا کہ آج مہنگائی کا طوفان ہر شے کو بہا لے جا رہا ہے، لوگ کام کرنے کے باوجود اپنے مسائل حل نہیں کر پارہے، ایسے میں ان ریگولر ملازمین کو جو گزشتہ کئی سال سے پاکستان کے پہلے کوئلے سے چلنے والے پاور ہائوسز کو اپنے خون پسینے کو بہا کر رواں دواں رکھے ہوئے تھے لیکن ارباب اختیار نے اس پاور ہائوس کو بند کرکے ادارے کے 300 ملازمین کی تنخواہیں بھی بند کرکے ان پر شب خون ماردیا ہے اور وہ اپریل سے تاحال باوجود ڈیوٹی کی ادائیگی اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں جس سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔ یونین مطالبہ کرتی ہے کہ نہ صرف پاور ہائوس کو چلایا جائے بلکہ ان کی تمام تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ لاکھڑا پاور ہائوس کے زونل چیئرمین مظہر ملاح، زونل سیکرٹری غلام رسول ڈیتھو نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم کو دربدر کردیا گیا ہے، ہم اسلام آباد اور لاہور کے چکر لگاتے لگاتے تھک چکے ہیں لیکن ہماری شنوائی نہیں ہورہی، ملازمین کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں یونین کے نمائندے کی حیثیت سے ہم اور ہمارے قائدین مسلسل اس مسئلے کو حل کرانے میں مصروف عمل ہیں لیکن مسائل اپنی جگہ موجود ہیں ہم نے اپنے مرکزی قائدین کے توسط سے محکمہ انرجی اسلام آباد میں بھی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔لیکن چارہ ماہ تک تنخواہ سے محروم رہنا اس پرآشوب دور کو گزارنا اب ممکن نہیں رہا۔ وزارت توانائی کے ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ ملازمین کو فاقہ کشی سے بچایا جائے، ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے تاکہ ہماری فیملی ذہنی اذیت سے نجات حاصل کرسکے اور انکی اشک سوئی ممکن ہوسکے۔ مظاہرین سے دیگر صوبائی ، ریجنل زونل عہدیداران اعظم خان، نور محمد سومرو، غلام حیدر وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔