عوام پر مہنگائی کے مزید بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا، وزیر اعظم

46
اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان مہنگائی میں کمی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) عوام پر مہنگائی کے مزید بوچھ کو برداشت نہیں کر سکتا، وزیراعظم عمران خان کا چینی پر سے سیلز ٹیکس کے نفاذ کو واپس ایکس مل قیمت پر لے جانے کا فیصلہ، متعلقہ حکام کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کی بھی ہدایات کردی- تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے بنی گالا میںجائزہ اجلاس ہوا- وزیر اعظم نے چیف سیکرٹریز کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا مناسب تعین اور اس قیمت کا اطلاق ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات کیں اور کہا کہ عوام پر مہنگائی کے مزید بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں اہم اجلاس ہوا، جس میں ملک میں مہنگائی کی صورتحال اور صوبوں میں پرائس کنٹرول کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چینی کی قیمت میں خاطر خوا کمی کو یقینی بنانے کے لیے 30 نومبر 2021 تک سیلز ٹیکس کے نفاذ کو واپس ایکس مل قیمت پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا، وزارت صنعت اور وزارت خزانہ کومستقبل کی چینی کی ضروریات کا تعین اور درآمد کے حوالے سے ضروریات کا جائزہ لینے کے احکامات دیے گئے۔ وزیر اعظم نے چیف سیکرٹریز کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا مناسب تعین اور اس قیمت کا اطلاق ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات بھی دیں۔اجلاس میں تعین شدہ قیمتوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے تنازع کے پرامن سیاسی حل کے لیے امریکا سمیت متعلقہ ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے افغان فریقین پر زور دیا کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات نتیجہ بنائیں۔وزیراعظم ہاو¿س سے جاری بیان کے مطابق افغانستان کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔وزیراعظم عمران خان اور زلمے خلیل زاد نے ملاقات کے دوران افغانستان کی صورت حال اور امن عمل میں تیزی لانے کی ضروت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے پرامن، مستحکم اور متحد افغانستان کے لیے پاکستان کے مستقل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ مغربی سرحد خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کے لیے کوششوں میں امریکا اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ بدستور مصروف عمل رہنا چاہے گا۔وزیراعظم عمران خان نے تمام افغان فریقین پر زور دیا کہ وہ لچک دکھائیں اور ایک دوسرے ساتھ نتیجہ مذاکرات کریں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے جس طرح تاشقند میں وسطی ایشیا او رجنوبی ایشیا رابطہ کانفرنس میں تجویز دی تھی، اسی طرح افغانستان کے ہمسائیوں اور خطے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں پائیدار سیاسی حل کے لیے مل کر تعمیری کام کریں۔