ایران میں احتجاج جاری‘ فائرنگ سے 4افراد ہلاک

89
ایران: حکومت کی ناقص پالیسیوں کے خلاف عوام احتجاج کررہے ہیں

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں پانی کی قلت کے خلاف چوتھے روز بھی احتجاج جاری رہا۔ اس دوران سیکورٹی اہل کاروں نے ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع شہر خفاجیہ میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق خفاجیہ اور اس کے نواحی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروس منقطع ہوگئی ہے۔ ایرانی حکام نے اہواز کے جنوب مشرق میں محمرہ شہر میں کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔ بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق ایران میں عرب اکثریتی آبادی والے شہروں میں 4 روز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان شہروں میں اہواز، خفاجیہ، فلاحیہ، سوس، شوور، حمیدیہ، حویزہ اور محمرہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ احتجاج کا سلسلہ ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان کے مختلف شہروں سے شروع ہوا تھا،جس کا دائرہ اب مزید وسیع ہوگیا ہے۔ عوام نے پانی کی عدم دستیابی، خوزستان صوبے میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور عرب اکثریتی علاقوں کی آبادی کو زبردستی طور پر ہجرت پر مجبور کیے جانے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر مظاہرے شروع کیے گئے۔ اس سے قبل 2019ء میں بھی ایران میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک گیر احتجاج شروع ہوا تھا،جس کے دوران سیکورٹی اہل کاروں کے تشدد سے 1500سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔