افغانستان کا تصفیہ اور بیانئے کا قضیہ

285

وقاص احمد
جیسے جیسے افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے طالبان ہی کی شرائظ پر انخلاء کے عمل میں تیزی آنا شروع ہوئی ہے ویسے ویسے پاکستان کی اشرافیہ ، مقتدرہ اور خود ساختہ دانشورطبقات کے مبہم بیانیے ، بے منطق تشویش اور بے سرو پا گفتگو میں بھی تیزی آنے لگی ہے۔ جوں جوں طالبان ضلع در ضلع آگے بڑھ رہے ہیں ان طبقات کے دلائل میں غلط بیانی، علمی بددیانتی ، کج فہمی میں اضافہ ہورہا ہے اور معاملات صریح جھوٹ اور منافقت کی حد تک جارہے ہیں۔ دنیا کے میڈیا ، تھنک ٹینک کی کیا بات کریں ، جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور سٹیبلشمنٹ ہی کوئی منطقی قومی بیا نیہ استوار نہیں کر پارہی اور معاملات حکومتی ترجمانوں اور دفاعی تجزیہ کاروں کے ہاتھوں میں دے دیے گئے ہیں جو اپنی اپنی ذہنی استعداد و استطاعت اور نظریاتی وسعت و بالیدگی کے مطابق رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا پیٹ بھر رہے ہیں۔ راقم کی نظر میں پاکستانی قوم کے نظریاتی ابہام اور ذہنی انتشار میں اس مرتبہ بھی کمی کی امید اس لیے نظر نہیں آتی کیونکہ بیانیہ ترتیب دینے کی باگ ڈور پھر مغرب زدہ لبرل طبقات کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے طالبان کے خلاف 1995 میںبھی کسی کے اشاروں پر پروپیگنڈے کا بازار گرم کیا تھا۔ یہ طبقات آج بھی اسی قسم کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں جیسے ان بیس سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ کج فہمی اور بددیانتی کا یہ حال ہے کہ اگر آپ بعض مؤقر انگریزی اخبار ات کے کالم اوراداریے پڑھیں تو ایسا لگے گا کہ جیسے گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان جنت کا نمونہ تھا جس کو آج طالبان تتر بتر کر رہے ہیں۔ یعنی جیسے افغان حکومت نہایت قانونی و جائز تھی اور دیانت و امانت کے ساتھ کام کر رہی تھی اور ایک شاندار نظام اور حکومت اتحادی افواج چھوڑ کر جا رہے ہیں، جسے طالبان تباہ و برباد کر رہے ہیں۔کیا پاکستان گزشتہ بیس سالوں سے اپنی مغربی سرحدو ں کے حوالے سے امن و شانتی سے تھا جو آج طالبان کی وجہ سے بے چین اور مضطرب ہے؟ کیا حامد کرزئی ، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے ساتھ پاکستانی ریاست و عوام کے ساتھ گاڑھی چھن رہی تھی جو ہمیں غم کھائے جارہا ہے۔ بھارتی قونصل خانوں سے محبتوں کا کوئی سلسلہ جاری تھا ، امریکی افواج اور سی آئی اے کی طرف سے طیاروں اور ڈرون سے پھول برسانے کی کوئی روایت جاری تھی جو طالبان کے آنے سے رک جانے کا ہم کو ملال ہے۔ چہروں پر ہوائیاں اْڑی ہوئی ہیں اور پریشانی کا یہ عالم ہے کہ جیسے جی ایچ کیو یا کراچی ائرپورٹ پر پھر حملہ ہوگیا ہو۔
ان بیس سالوں میں افغانستان کا کوئی ایک ہفتہ بتائیں جس میں کوئی دھماکا کوئی حملہ کوئی جھڑپ یا کوئی بمباری نہ ہوئی ہو جس کی وجہ سے بیسیوں جانیں ضائع نہ ہوئی ہو۔ جب ستر ہزار لوگ صرف پاکستان میں جاں بحق ہوئے تو پھر افغانستان میں ہلاک شدگان کی تعداد کا صرف اندازہ کیا جا سکتا ہے۔کنفیوزڈ، متذبذب، پریشان اور سہمے ہوئے دانشوروں سے گزارش ہے کہ پہلے معاملات کو خالصتاًزمینی حقائق ، بین الاقوامی قوانین اور خارجہ امور کی سطح پر دیکھیں ، گزشتہ دو دہائیوں میں بیتنے والے واقعات و حادثات کو ذہن میں لائیں اور پھر پاکستان کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں۔ سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ ان برسوںمیں افغان حکومت سے ہمارے تعلقات کیسے رہے۔ پاکستان خاص طور پر گزشتہ چھ سات برسوںمیں بلوچستان میں دہشت گردی کے کیا حالات رہے۔ بھارت کے افغان حکومت سے تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو کیا کیا پاپڑ بیلنے نہیں پڑے ، کیا کیا غمناک دن اور راتیں نہیں دیکھنا پڑیں۔ کون سی ایسی مصیبت ہے جو اس قوم پر نہیں آئی۔ جی ایچ کیو، کامرہ، مہران بیس ، ائرپورٹ سے لیکر آرمی پبلک اسکول اور بلو چستان میں دہشت گردی تک لا تعداد المناک داستانیں ہیں۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعدجنرل مشرف اور جنرل کیانی کے عاقبت نااندیش فیصلوں اور کمزور پالیسیوں کے بعد جنرل راحیل اور جنرل باجوہکی بہتر حکمت عملی اور اقدامات کی وجہ سے پاکستان کے مسائل میں بتدریج کمی آنا شروع ہوئی۔البتہ اگر حافظہ ساتھ نہ دے رہا ہو تو پاکستان کے دفتر خارجہ ، وزارتِ دفاع اور پاکستانی اخبارات کے ریکارڈ کا مطالعہ کرنے سے معلوم چل جائے گا کہ افغان طالبان کے دور میں 1995 سے لے کر 2001تک پاکستان کو مغربی بارڈر پر کسی سنجیدہ مسئلہ اور کسی جارحیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کو اپنے مغربی بارڈر پر پہت کم فوج رکھنیکی ضرورت پڑتی تھی۔ بھارت کا وہاں نام و نشان تک نہ تھا۔ صرف ان سادہ سی حقیقتوں کو جانچتے ہوئے ہی پاکستا ن کو چاہیئے کہ کہ افغان طالبان کے حکومت بنانے کو خوش آمدید کہے۔
لیکن اس کے برخلاف ان خبروں کا آنا بہت افسوسناک ہیکہ پاکستان افغان طالبان کے کابل پر قبضے کو قبول نہیں کرے گا یا چین اور روس کی کسی تشویش سے پاکستان بھی متفق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان سب جگہ دورے اور مذاکرات کر رہے ہیں سوائے پاکستان کے۔ پاکستان نے افغان طالبان کی اس جنگ میں جو بھی مدد کی ہے یہ تو اس کے پھل کھانے کے دن تھے۔ لیکن پتا نہیں کس نظریاتی سوچ اور بیانئے کے دام میں پھنس کر پاکستانی ریاست اور حکومت ایک اور گرداب میں پھنسنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین صاحب نے ایک پاکستانی صحافی کو انٹرویو میں اسلامی نظام اور پاکستان کی تشویش کے جواب میں یہاں تک کہہ دیا کہ افغان طالبان نے قربانیاں دے کر فتح اس لیے نہیں حاصل کی ہے کہ وہ کسی کی ڈکٹیشن لیں۔ اسی بات کا اقرار وزیراعظم نے تاشقند میں کیا کہ طالبان اب پاکستان کی کیوں سنیں گے جب وہ فتح محسوس کر رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب ! کاش آپ کوئی ایسی بات کریں جسے طالبان سنیں اور مانیں ،اس کی ستائش و حمایت کریں۔
ایمانی اور نظریاتی مباحث سے جدا ہوکر بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ امور کی سطح پربھی دیکھا جائے تو پاکستان کے تعلقات دنیا کے ایسے ممالک سے بھی ہیں جہاں انسانی حقوق، انتہائی معزز جمہوریت ، آزادی اظہار رائے، حکومت پر تنقید ، مخالفین سے رویے کے معاملات بہت دگرگوں اور ابتر ہیں۔ شہد سے زیادہ میٹھے دوست کو ہی لے لیجئے۔ سنکیانگ کی بات نہیں کرتے لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ ستر سال سے وہاں صرف ایک ہی کمیونسٹ پارٹی حکومت کر رہی ہے۔ اسی پارٹی کو حکومت کا حق ہے۔ چین میں کسی کو اختلاف ہوجائے تویا تو دن میں تارے نظر آجائیں گے یا وہ خودغائب ہوجائیگا۔ صدر پیوٹن کے روس کا حال دیکھ لیں وہاں اپوزیشن کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اقتدار پر کنٹرول کس آہنی ہاتھ سے ہے۔ تیاریاں یہ ہیں کہ اگلے دس سال کیسے اقتدار میں رہا جائے۔ سعودی عرب کی جمہوری اقدار اور اظہار رائے کے حالات دیکھ لیں۔ پاکستان کے تعلقات ان ممالک سے بے چینی و اضطراب کا شکار ہیں؟۔ کیا پاکستان مختلف فورمز پر یہ مسئلے اٹھاتا ہے؟۔ اپنی بے چینی ، بے قراری اور ناگواری کا اظہار کرتا ہے ؟ کہ ان ملکوں کی حکومتیں جمہوری ، اخلاقی اصولوں کے خلاف ہیں اور پاکستان کے لئے نا پسندیدہ ہیں۔ لیکن نہیں ! پاکستان کی مجال نہیں۔تمام تعلقات زمینی حقائق ، معیشت و تجارت اور امن و امان کے حوالے سے قائم ہیں۔ تو پھر لبرل طبقات ا ور حکومت میں انکے نمائندوں کی تان افغانستان میں آ کر ہی کیوں ٹوٹتی ہے ؟ وجہ کچھ اور بھی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات، سفارتی سطح اور خارجہ امور کے حوالے سے مزید دیکھیں تو افغان طالبان واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ مکمل امن و امان اور بھائی چارے کا ماحول رکھا جائے گا۔ اپنی زمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیا جائے گا۔ تجارت اور تعلقات کو مستحکم کیا جائے گا تو پاکستان کو اور کیا چاہیئے۔
پاکستا ن کی مقتدر قوتوں سے عرض ہے کہ وسیع البنیاد حکومت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ طالبان اور دوسرے دھڑے اس کٹھ پتلی افغان حکومت کے ساتھ تعاون کریں بلکہ اب طالبان کی فتح کے بعد اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دھڑے افغان طالبان کے ساتھ کام کریں۔ پاکستان اور پاکستانی عوام کو یہ بات جلد سمجھنا ہوگی۔ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں اسلامی نظام آجانے سے پاکستان کے اندر دینی تحریکات اور اس کے نتیجے میں انتہا پسندی کا خدشہ ہے تو اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ حکومت اور عوام ،دین ِ حق کے نفاذو اقامت کے حوالے سے اپنے کرتوتوں کا جائزہ لیں۔ اپنے جرائم پر نظر ڈالیں اور توبہ کرکے اسلام کی جانب پیشدقدمی کریں۔ نہ کہ افغان طالبان کی تحریک کو مسخ کرنے کی سازش کا حصہ بنیں ۔