حافظ محمد سلیم شاہ کی یادیں

115

مولانا محمد سرفرازمعاویہ

حافظ محمد سلیم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا آبائی تعلق چیچہ وطنی کے نواحی گائوں 110۔7آر سے تھا وہ سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے وہ کمسنی میں ہی اپنے ماں باپ کی محبتوں سے محروم ہوگئے تھے کیوں کہ ماں باپ ان سب بہن بھائیوں کو تڑپتا سسکتا چھوڑ کر قبر کی پاتال میں اتر گئے تھے ، انہوں نے تقریبا 8سال کی عمر میں دارالعلوم ختم نبوت جامع مسجد سے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا استاذ القراء قاری محمد قاسم کے پاس قرآن کریم حفظ کیا گرادن مکمل کرنے کے بعد 2010 میں از خود انہوں نے مجاہد ختم نبوت الحاج عبداللطیف خالد چیمہ سے گزارش کی کہ میں دارالعلوم ختم نبوت میں رہ کر ادارہ اور جماعت کی خدمت کرنا چاہتاہوں تب حاجی عبداللطیف خالد چیمہ نے انہیں مقامی دفتر کی ذمہ داری سونپی اور ساتھ ہی اپنا معاون مقرر فرمایا وہ بچپن ہی سے مجلس احراراسلام کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے کچھ عرصہ بعد انہیں مجلس احراراسلام پاکستان کا سوشل میڈیا کوارڈی نیٹر مقررکیا گیاوہ بڑی محنت اور جدوجہد کے ساتھ سوشل میڈیا کے انچارج محمد قاسم چیمہ کے نظم میں اس کام کو موت تک بخوبی سرانجام دیتے رہے۔
وہ حاجی عبداللطیف خالد چیمہ کے دست بازو تھے، اور سفر حضر کے ساتھی تھے وہ انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار اور حق گو تھے، فضول گوئی کھبی ان کی زبان پر نہیں سنی تھی، وہ ہر وقت لکھنے اور پڑھنے میں مصروف رہتے تھے، جماعت کے کام کو اپنا کام سمجھتے تھے ان کا قلم ہمیشہ اسلام اور عقائد کیلئے حرکت میں رہتا تھا ہم نے انہیں ہمیشہ دیوانہ وار تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے دیکھا ، وہ انتہائی محنتی اور جفا کش انسان تھے ۔
مشکل حالات میں بھی وہ جماعت اور ادارے کے ساتھ کھڑے رہے کبھی ڈگمگائے نہیں، سوشل میڈیا پر انہیں ہمیشہ عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس صحابہ ؓ واہلبیت کیلئے متحرک دیکھا ، وہ نیک صالح تہجد گزار تھے ،قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کرتے تھے،جمعہ المبارک کے دن سورۃ کہف تاکید کے ساتھ پڑھتے ذکر اذکار ہمیشہ ان کی زبان پر رہتا تھا ، وہ بزرگوں کی صحبت بہت پسند کرتے تھے ، راقم کا تعلق ان کے ساتھ تقریبا 5سال سے تھا اجنبی شہر میں بھائیوں جیسے دوست کا مل جانامیرے لیئے بہت خوش نصیبی کی بات تھی ہرمشکل وقت میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا وہ دل کی ہر بات راقم سے کیا کرتے تھے اور راقم اپنے دل کی ہربات ان سے کرتے مرحوم بہت خوبصورت بہت خوب سیرت پاکیزہ انسان تھے ۔، 2017میں راقم نے پہلا مصلی جامع مسجد چیچہ وطنی میں تہجد کے نوافل میں سنایا جس میں میرے سامع میرے بھائی حافظ سیدمحمد سلیم شاہ مرحوم تھے ، جمعرات 8جولائی 2021 راتتقریبا 9بج کر 30منٹ پر برادرم محمد قاسم چیمہ کا فون آیا انہوں نے سلام کیا اور فورا کہا خبر مل گئی ہے میں نے کہا نہیں خیریت ہے کیا ہوا ہے کہنے لگے سلیم شاہ کا انتقال ہوگیا ہے، یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گری اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا او زبان سے بے ساختہ یہ جملے نکلے سلیم شاہ یار تو تو بے وفا نکلا یہ بھی کوئی جانے کی عمر تھی ابھی تو کھیلنے کودنے کے دن باقی تھے ابھی تو حافظ کی عمر ہی کیا تھی ، مرحوم خود کہاکرتے تھے عید کے بعد میری شادی ہے تم ابھی سے تیاری شروع کردو ، مرحوم کی نمازجنازہ ان کے آبائی گائوں 110 سیون آرچیچہ وطنی میں نماز جمعۃ المبارک کے بعد امیر مجلس احراراسلام پاکستان سید محمد کفیل بخاری نے پڑھائی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد دینی راہنمائوں ، کارکنوں ، صحافیوں ، اور دیگر نے شرکت کی ، قبل ازیں نماز جمعتہ المبارک کے اجتماع سے تعزیتی خطاب کرتے ہوئے سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ حافظ محمد سلیم شاہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے سرگرم کارکن اور ذمہ دار ہونے کی حثیت سے گراں قدر خدمات سر انجام دیں جن کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، مجلس احراراسلام پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی الحاج عبداللطیف خالد چیمہ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ حافظ محمد سلیم شاہ ایک صالح نوجوان تھے جنہوں نے دارالعلوم ختم نبوت جامع مسجد سے حفظ قرآن کریم کے بعد اپنے آپ کو عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ اور دفاع ناموس صحابہ ؓ کرام واہلبیت عظام کیلئے وقف کررکھا تھا، مرحوم کی تقریبا27 سال عمر تھی انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ان محاذوں کو سرگرم رکھا جو کہ ان کیلئے توشہ آخرت ہیں ۔
؎ آئے عشاق گئے وعدہ فردا لیکر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لیکر
فدائے ختم نبوت حافظ محمد سلیم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی گراں قدر خدمات اندرون بیرون ملک سے اکابر وعلماء کرام اور دوست احباب کا وسیع ترحلقہ احباب مرحوم کے پسمندگان اور حاجی عبداللطیف خالد چیمہ سے تعزیت کررہا ہے اور ہر وقت مستعد رہنے والے حافظ مرحوم کیلئے دعائے مغفرت و بخشش کی دعائیں کی جارہی ہیں ۔
؎ خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را
اللہ تعالی بھائی حافظ محمد سلیم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی مغفرت فرمائے اور ان کی تحفظ ختم نبوت کیلئے جملہ خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور انہیں اپنی رحمت خاصہ میں جگہ عطاء فرمائے آمین ثم آمین ۔