افغانستان کا مستقبل ، اسلامی نظام

112

افغا ن طالبان نے ایک مرتبہ پھر اپنے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا دو ٹوک جواب دیا ہے کہ عسکری کامیابیوں کے باوجود افغان تنازع کا سیاسی حل چاہتے ہیں ، طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے عید الاضحی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے پر عزم ہیں ، دوسرا فریق وقت ضائع کر رہا ہے ۔انہوں نے افغان ہم وطنوں کے لیے کھلا پیغام دیا ہے کہ غیر ملکیوں پر انحصار کے بجائے مسائل خود حل کریں اور ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالیں ۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہ نے تمام سفارتکاروں ،قونصل خانوں اور این جی اوز کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کو ہم سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ مسئلہ صرف غیر ملکی فوجیوں کو تھا اور وہ رہے گا ۔ ملا ہیبت اللہ نے کہا کہ ہم امریکا سمیت عالمی برادری سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں ۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے تمام افغان فریقوں کو پیشکش کی ہے کہ ملک میں شرعی نظام حکومت قبول کر لیں ،ہم آپ کے تمام مطالبات تسلیم کر لیں گے ۔ یہ ایک ایسی پیشکش ہے کہ اس کے نتیجے میں بین الافغان ہم آہنگی کی ضمانت مل سکتی ہے اور افغانستان کے دوسرے فریقوں کی نیت کا بھی پتا چل جائے گا ۔ اگر وہ افغانستان کے امن و ترقی میں مخلص ہیں تو انہیں طالبان کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے ۔ طالبان نے20 برس اسی نظام کے لیے جدو جہد کی ہے اور اپنی امارت ختم ہونے سے قبل یہ نظام کامیابی سے نافذ بھی کیا تھا ۔ اگر سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بھی طالبان کی پیشکش پر یقین رکھنا چاہیے ۔ آخر سیاسی جماعتیں اپنا منشور پیش کرتی ہیں لوگ اس پر یقین کرتے ہیں، انہیں حکومت دیتے ہیں پھر اگر وہ اپنے منشور پر عمل نہ کریں تو ان کا محاسبہ ہوتا ہے اور دوبارہ موقع نہیں ملتا ۔ پھر طالبان تو یہ کام پہلے کر چکے ہیں لہٰذا تمام افغان فریقوں کو اس امر پر متفق ہو جانا چاہیے ۔ طالبان رہنما کی پیشکش بھی بڑے اہم وقت پر سامنے آئی ہے ۔ جب دوحا میںبین الافغان مذاکرات کا ملتوی شدہ دور طویل عرصے بعد بحال ہوا ہے ۔ یہ گویا ان مذاکرات کے لیے بھی ایک پیغا م تھا کہ اگر افغانستان کے امن اور ترقی میں سنجیدہ ہیں تو اس روڈ میپ کو قبول کر لیا جائے ۔ جہاں تک این جی اوز اور سفارتکاروں کے بارے میں کہا گیا ہے یہ بالکل واضح ہے کہ طالبان اسی دنیا کے رہنے والے ہیں اور دنیا کے مروجہ اصولوں کے مطابق حکومت کے معاملات چلانا جانتے ہیں اسی لیے بہت واضح پیغام دیا ہے کہ سفارتکاروں ، قونصل خانوں اور این جی اوز کو کوئی خطرہ نہیں ۔ البتہ دوسری طرف سے بھی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ضرورت ہے کہ جس ملک میں یہ سفارتکار ہیں ان کے قونصل خانے ہیں وہ اس ملک کے قوانین کے مطابق وہاں کام کریں ۔ یہی پیغام این جی اوز کے لیے ہے ۔ اگر این جی اوزصرف این جی او والا کردار ادا کریں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتی ہیں وہی کریں تو کسی ملک کو ان پر اعتراض نہیں ہو گا ۔ لیکن اگر یہ این جی اوز اپنے ملکوں یا امریکا کا ایجنڈا افغانستان میں چلانے کی کوشش کریں گی تو ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ ہوا ہے ۔ افغان امن کے حوالے سے ملا ہیبت اللہ نے دو ٹوک بات کہی ہے کہ اسلامی شرعی قوانین پر اتفاق ہی امن کا ضامن ہے اس کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ افغان امن کے دشمن اپنی سازشوں میں مصروف ہیں ۔افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد کے حوالے سے ابھی کوئی بات سامنے نہیں آئی لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے بھارتی امریکی لابی استعمال ہوئی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان کے اندر ہی کسی کے دماغٖ میں خلل واقع ہو گیا ہو ۔ لیکن افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد کا واقعہ افغانستان میں بدلتے حالات اور بین الاقوامی مذاکرات سے الگ نہیں ہو سکتا ۔ اس کا کسی نہ کسی طرح افغان معاملات سے بھی تعلق ہے ۔ افغانستان کی صورتحال نہایت پیچیدہ ہے ۔ اس پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانوں سے ایک عشرے تک مار کھا کر بھاگنے والے روس نے افغانستان پر نظر رکھنے کے لیے امریکا کو اڈے دینے کی پیشکش کر دی ہے ۔ روس کی یہ پیشکش واضح کر رہی ہے کہ افغانستان میں اسلامی حکومت اس کو بھی قبول نہیں ۔ روس نے تاجکستان اور کرغیزستان میں اپنے فوجی اڈے فراہم کرنے اور فضائی نگرانی کا ڈیٹا بھی دینے کی پیشکش کی ہے ۔ یہ پیشکش انسانی ہمدردی ،دوریاستوں کے باہمی تعلقات مضبوط بنانے ، تجارت یا عالمی ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے نہیں ہے بلکہ طالبان کا راستہ روکنے یا ان کے سر پر ہر وقت تلوار لٹکا کر رکھنے کے لیے ہے ۔ طالبان نے عسکری کامیابیاں حاصل کرلی ہیں اب انہیں سفارتی اور سیاسی محاذ پر اس قسم کے حیلوں اور حملوں سے بھی نمٹنا ہے ۔ پاکستانی حکومت میں شامل بیشتر عناصر کو اسلام کے نام سے الرجی ہے اس لیے ان کو خاموش رکھنا ضروری ہے ورنہ یہ لوگ وہ کام کر دکھائیں گے جو بھارت امریکا اور روس کرنا چاہتے ہیں ۔