مکہ المکرمہ: 670 کلوگرام خالص ریشم سے تیار کردہ غلاف کعبہ تبدیل

92

مکہ المکرمہ: سونے، چاندی کے تاروں اور خالص ریشم سے تیار کردہ غلاف کعبہ کو نماز فجرکے بعد تبدیل کردیا گیا جبکہ خانہ کعبہ میں غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب منعقد ہوئی اور  غلاف کعبہ خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے سربراہان مملکت اور دیگرمعززین کو تحفہ پیش کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سونے، چاندی اور خالص ریشم سے بنے غلاف کعبہ کی تیاری کروڑوں ریال لاگت آتی ہے اور غلاف کعبہ کی تبدیلی کا کام نماز فجر کے بعد شروع ہوا، نئے غلاف میں 670 کلوگرام خالص ریشم سے تیار کیا گیا ہے جبکہ غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب 9 ذی الحج کو عازمین کے عرفات پہنچنے پر منعقد کی جاتی ہے۔

غلاف کی تیاری میں 150 کلو گرام خالص سونا اور چاندی بھی استعمال کی گئی ہے اور اس پر بیت اللہ کی حرمت اور حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ کی گئی ہیں۔

غلاف کا سائز 658 مربع میٹر ہے اور یہ 47 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ہر حصہ 14میٹر طویل اور 95 سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ زمین سے تین میٹر کی بلندی پر نصب کعبہ کے دروازے کی لمبائی چھ میٹر اور چوڑائی تین میٹر ہے۔ غلاف کعبہ چار دیواروں کے علاوہ دروازے پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کو ڈھانپنے والے کپڑے کو کسوہ کہا جاتا ہے، ہرسال وقوف عرفہ کے دن پرانا کسوہ تبدیل کرکے نیا کسوہ چڑھایا جاتا ہے، کسوہ فیکٹری شاہ عبدالعزیز کے حکم سے1927میں قائم کی گئی۔

دوسری جانب  رات گئے منیٰ میں حجاج کرام طوافِ قدوم مکمل کرکے اپنے اپنے مقام پر واپس پہنچ گئے ہیں اور مکہ مکرمہ اتھارٹی نے عازمین حج کے لئے بہترین انتظامات کئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو تمام مسلمان ممالک کی قومی زبان کا کورس بھی کروایا گیا ہے۔

خیال رہے غلاف کعبہ کو کسوہ کہتے ہیں جس کی تبدیلی کا عمل ہر سال حج کے موقع پر کیا جاتا ہے اور یہ مجموعی طور پر 16 ٹکڑوں پرمشتمل ہوتا ہے، اس کی لمبائی 50 فٹ اور چوڑائی 35 سے 40 فٹ ہے، کسوہ فیکٹری میں سال بھر ماہر کاریگر اسے تیار کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں غلاف کعبہ کی تیاری کے امور کے لیے علیحدہ محکمہ اورام الجود بندرگاہ پر اس کا ایک خصوصی کارخانہ قائم ہے، جس میں غلاف کعبہ کی جدید ترین تکنیک کے مطابق تیاری کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں، یوں ہر سال یہ کارخانہ بیت اللہ کا ایک نیا غلاف تیار کرتا ہے جسے 9 ذی الحجہ کو پورے تزک واحتشام کے ساتھ خانہ کعبہ کی زینت بنایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ خانہ کعبہ کو ہرسال 2 مرتبہ شعبان اور ذی الحجہ کے مہینے میں غسل دیا جاتا ہے، اتارے جانے والے غلاف کعبہ ‘کسوہ’ کو ٹکڑوں کی شکل میں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے سربراہان مملکت اور دیگرمعززین کو بطور تحفہ پیش کردیا جاتا ہے، 1962 میں غلاف کعبہ کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی تھی۔