پولیس نے واقعے کو زیادتی کی کوشش لکھا، انیلا ملاح

63

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ٹنڈوالہیٰار کے گوٹھ بکیرا شریف کی رہائشی مبینہ طور رپراجتماعی زیادتی کا شکار انیلا ملاح کیس میں نامزد ملزمان کی جانب سے کیس سے ہاتھ نہ اٹھانے کی صورت میں قتل کی دھمکیوں اورپولیس کی جانب سے کیس خراب کرنے کیخلاف لڑکی کے ورثاء نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کے بعد انیلا ملاح نے اپنے والد ابراہیم ملاح کے ہمراہ بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 24 جون کو جاموٹ فارم سے واپسی پر ملزمان گلشاد ملاح، جاوید دل نے مجھے اغوا کرکے کیلے کے باغ میں لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا اور چیخ و پکار پر کچھ رشتہ دار خواتین پہنچی، جن کو دیکھ کر ملزمان فرار ہوگیا۔ متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرائی، پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اور رشوت کے عوض چھوڑ دیا جبکہ واقعے کا کیس خراب کردیا۔ ایف آئی آر میں واقعے کو زیادتی کے بجائے زیادتی کی کوشش لکھا ہے جبکہ پولیس نے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی اپنا بنوایا ہے۔ ملزمان آزاد ہیں اور ہمیں کیس سے ہاتھ نہ اٹھانے کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔0