لیڈی ہیلتھ ورکرز نے جدوجہد کر کے کامیابی حاصل کی ، شفیق غوری میر ذوالفقار

134

گزشتہ ہفتہ حیدرآباد میں ورکرز ایجوکیشن ریسرچ آرگنائزیشن (WERO) کے تعاون سے آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز ایمپلائز یونین کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں سندھ میں مروجہ لیبر قوانین اور سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے مندرجات سے متعلق تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں یونین کی صدر حلیمہ لغاری، جنرل سیکرٹری شمع گلانی سمیت یونین کی 20 ذمہ دار خواتین نے شرکت کی۔ تربیتی پروگرام کے کوآرڈینیٹر کے فرائض میر ذوالفقار علی نے انجام دیے جب کہ پروگرام کے ریسورس پرسن وٹرینر ٹریڈ یونین رہنما شفیق غوری تھے۔ صدر یونین حلیمہ لغاری و جنرل سیکرٹری نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی 1994ء سے جاری جدوجہد اور اس کے نتیجہ میں حاصل شدہ فوائد نیز یونین کی رجسٹرار ٹریڈ یونین سندھ سے قانونی طور پر رجسٹریشن کے حصول کے لیے مراحل و مشکلات بیان کی۔ میر ذوالفقار علی نے اس تربیتی پروگرام کی غرض و غایت اور افادیت شرکاء کے روبرو پیش کی۔ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے شفیق غوری نے کہا کہ گرچہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو وفاقی و سندھ حکومت سول سرونٹس کے دائرہ کار میں شامل کرتی ہے لیکن اس کے باوجود پرعزم و مسلسل جدوجہد کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی حیثیت کو تسلیم کرواتے ہوئے سندھ صنعتی تعلقات ایکٹ 2015ء کے تحت یونین کا رجسٹریشن حاصل کرلیا جو ایک تاریخی کامیابی ہے۔ دوسری جانب آپ اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کو سندھ سول سرونٹ ایکٹ 1973ء کے تحت مجاز اتھارٹی سے دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرواسکتی ہیں۔ لہٰذا آپ کی بھرتی کی تاریخ سے قبل 18 سال کی سروس سینارٹی اور ٹیکنیکل و ہنر مند ورکر کا پے اسکیل مروجہ اوقات کار سے زائد ڈیوٹی کا اضافی معاوضہ اور دیگر متعلقہ مسائل و مطالبات کے حل کے لیے نہ صرف مسلسل جدوجہد بلکہ متعلقہ مجاز اتھارٹی سے باہمی مذاکرات کے لیے ان کی توجہ مبذول کروانا بھی آپ کی جدوجہد کا اہم حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل و مطالبات کو شدت سے اجاگر کرنے کے لیے آپ کو موثر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ دوران پروگرام شرکاء سے گروپ ورک بھی کروایا گیا۔ یونین کے ذمہ داران نے تربیت کا موقع فراہم کرنے پر میرذوالفقار علی اور WERO کا شکریہ ادا کیا۔