کرامت علی مزدوروں کے خدمت گار ہیں‘ محمد اکبر

80

پائیلر کے ڈائریکٹر کرامت علی کی مزدور اتحاد کے قیام کی کاوشوں پر اعتراض قابل افسوس عمل ہے ۔ استحصالی قوتوں اور ان کے پروردہ افراد کے لیے تو جرم سہی لیکن محنت کشوں کی نمائندگی کی دعویدار تنظیم کی طرف سے اعتراضات ناقابل فہم ہیں۔ پائلر اور اس کے ڈائریکٹر کے خلاف عام تحریر منفی مخالفانہ جذبات کا اظہار انتہائی افسوسناک امر ہے ۔ میں محمد اکبر متحدہ لیبر فیڈریشن پاکستان کا سینئر نائب صدر ہوں اور فیڈریشن پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کی اتحادی تنظیم ہے۔ کنفیڈریشن کے اغراض و مقاصد میں مزدور اتحاد قائم کرنے اور محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کرنا، مضبوط مزدور تحریک کا قیام اور حقوق کے تحفظ اور حصول کی جدوجہد جرم کیسے ٹھہری۔ پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے کسی ممبر کو دیگر مزدور رہنماؤں اور تنظیموں کے خلاف اس قسم کی بیان بازی کنفیڈریشن کے اپنے وجود اور بقاء کے لیے مناسب نہیں۔ فیڈریشن اور کنفیڈریشن میں اس مسئلے پر بات چیت اور کوئی مشترکہ اکثریتی فیصلہ تک اپنی ذاتی رائے زنی سے اجتناب کریں ۔ FES کے تنازعہ کے بارے میں بات کرنا نا مناسب ہے انتظامیہ مناسب جواب دے یا نہ دے۔ میں ملازمین کی یونین بارے صرف اتنا عرض کروں گا کہ یہ یونین بھی پاکستان ورکرز فیڈریشن سے ملحقہ ہے اور اس کی رجسٹریشن بھی انتظامیہ کی ملی بھگت سے کروائی گئی تھی۔ جس کا واضح ثبوت ہے کہ نان ورک مین کو یونین کا کیسے جنرل سیکرٹری رجسٹرڈ کیا گیا۔ بہرحال ہمیں اعتراز کا حق نہیں اور ناہی ہم کسی بھی ملازم کی برطرفی کی حمایت کرتے ہیں اگر ملازمین اپنی یونین قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہم ان ملازمین کی بھرپور مدد کریں گے اور یونین رجسٹریشن کی منسوخی کسی صورت قبول نہیں ہے ۔ کسی دوست نے تحریر کنندہ کا نام دریافت فرمایا ہے اگر وہ خود نہیں بتانا چاہتا تو اس نمک حلال پر پردہ رہنے دیں۔ ایک سوال کا جواب دینا چاہتا تھا مگر شاید وطن عزیز میں مالکان کا حسن سلوک نظر نہیں آتا۔ ملک میں یونین کا نام لینا بھی جرم ہے جس کا سزا عمر بھر ملازمت سے سبکدوشی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔