ای او بی آئی پنشنرز کے لیے بینک الفلاح کی سروس کا معیار

35

ای او بی آئی کے پنشنرز کو 8500 روپے لینے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب مجھے تقریباً 6 ماہ بعد EOBI کی طرف سے پنشن کارڈ ملا میں کارڈ اور دیگر پیپرز لے کر بینک الفلاح کی برانچ گیا وہاں مجھے کہا گیا کہ EOBI کے ATM کارڈ ختم ہیں، میں دوسری برانچ گیا وہاں پر بھی یہی کہا گیا کہ کارڈ ختم ہیں آپ ایک ہفتے بعد آئیں۔ ایک ہفتے بعد گیا تو پھر ایک ہفتے کا وقت دے دیا گیا۔ 3 ہفتے بعد جب برانچ گیا تو ریسپشن پر بیٹھی خاتون نے کہا کہ کارڈ نہیں آئے ہیں منیجر کے پاس گیا بتایا مجھے آج آنے کا کہا گیا تھا 3 ہفتے ہوگئے ہیں مجھے آتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ آپ انتظار کریں 3 گھنٹے انتظار کے بعد مجھے ATM کارڈ مل گیا۔ اب کارڈ کو ایکٹیو کرانے کے لیے بینک الفلاح کی ہیلپ لائن پر کال کرنے کے لیے بار بار کوشش کی آخر کار خوش قسمتی سے نمبر مل تو گیا تقریباً 45 منٹ بعد تقریباً 300 روپے کا بیلنس ضائع کرنے کے بعد میری بینک آفیسر سے بات ہوئی، میں نے ایک ادارے میں 36 سال سروس کی اور اپنی تنخواہ سے پیسے کٹوانے EOBI رولز کے مطابق پنشن نہیں دی جارہی، جو دی جارہی ہے اس کے لیے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ پنشن کے حصول کو آسان بنایا جائے، بینک الفلاح حکومت سے سروس چارجز کی مد میں لاکھوں روپے لے رہا ہے۔ سروس کا معیار دیکھ کر افسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ بینک الفلاح کے ذمہ داران سے بھی گزارش ہے کہ EOBI پنشنرز کے لیے الگ کائونٹر اور الگ ہیلپ لائن بنائیں تا کہ EOBI کے پنشنرز آسانی کے ساتھ پنشن لے سکیں۔