ہماری افغان پالیسی

203

امریکی صدر بائیڈن تودامن جھاڑ کر افغانستان سے دست بردار ہوگئے، البتہ انہوں نے تعیُّن کے ساتھ اشرف غنی حکومت کا نام لینے کے بجائے یہ کہا :’’ہم افغان عوام کی حمایت جاری رکھیں گے‘‘۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تحریک طالبان نے امریکا کو درونِ خانہ کچھ یقین دہانیاں کرائی ہیں، اسی لیے امریکی انخلا کے دوران نہ طالبان کی جانب سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا اور نہ امریکا نے ڈرون حملے یا فضائی بمباری کی، گویا فریقین نے غیر عَلانیہ مفاہمت پر خوش اسلوبی سے عمل کیا۔ صدر بائیڈن نے یہ بھی تسلیم کیا : ’’افغانستان میں طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہیں‘‘، انہوں نے مزید کہا: ’’اب ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی توجہات نئے محاذ کی طرف مبذول کریں گے ‘‘، اس سے اُن کی مراد چین کے معاشی تسلّط اور عالمی تجارت پر چین کے غلبے اور مستقبل کی ایک برترحربی قوت بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہیں۔ آسٹریلیا ، جنوبی کوریا اور جاپان کوملاکرایک بڑا الائنس بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، یورپین ممالک تو پہلے ہی نیٹو اتحاد میں امریکا کے حلیف ہیں اور ان سب ممالک کے ذہنوں میں چین کی تیزرفتار معیشت اور ٹیکنالوجی بالخصوص خلائی ٹیکنالوجی میں روزافزوں ترقی کا خوف ہے۔ سابق امریکی صدرٹرمپ نے بھی چین کو اپنا ہدف بنارکھا تھا، ترقی یافتہ ممالک کا سیاسی کلچر ’’ہر کہ آمد عمارت نو ساخت ‘‘کے مصداق ہماری طرح نہیں ہوتا ،یعنی ’’جوبھی آیا، اُس نے ایک نئی عمارت بنائی‘‘۔ ہمارے ہر دور کے اہلِ اقتدارکی اپنے سابقین سے نفرت انتہا کو پہنچی ہوتی ہے ،وہ ان کا نام ونشان مٹادینا چاہتے ہیں، اس کے برعکس برتر عالمی قوتوں کا کلچر جدا ہوتا ہے، وہ اپنے پیش روئوں کا ہر نقش مٹانے کے درپے نہیں ہوتے،اُن کی پالیسیاں قومی مفاد کے تحت بنتی ہیں اور جاری رہتی ہیں۔ جارج بش سینئر نے 1991ء میں کویت پر قبضے کی پاداش میں عراق پر حملہ کیا، پھر بش جونیر نے2003ء بڑے پیمانے پرتباہ کن اسلحے کا جھوٹا الزام لگاکر عراق پردوبارہ چڑھائی کی ، اسی طرح بش جونیئر نے 2001ء میں افغانستان پر چڑھائی کی، لیکن ان کے بعد آنے والے صدور نے ان پر لعن طعن نہیں کی، بلکہ اُن کی پالیسیوں کو لے کر آگے چلے، چنانچہ بائیڈن نے کہا: ’’ہم نے ٹرمپ حکومت کے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے افغانستان سے انخلا پر عمل کیا‘‘۔
امریکا نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ تقریباً ایسے 20ہزار افراد جنہوں نے افغانستان میں مختلف حیثیتوں میں امریکی فوج کی مدد کی ، ان میں ترجمان امریکی انٹیلی جنس کے کارندے اور ان کے خفیہ مخبر وغیرہ سب شامل ہیں، انہیں امریکا اور مغربی ممالک کے اسپیشل امیگرنٹ ویزے دیے جارہے ہیں، کیونکہ اندیشہ ہے کہ طالبان کے غلبے کے بعد ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ امریکی اب تک اپنے ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے تحفظ سے بھی دست بردار نہیں ہوئے، جبکہ مشرف دور میں طالبان کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
یہ پس منظر اس لیے بیان کیا گیا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان کے حوالے سے ہماری پالیسیاں ابہام کا شکار ہیں، سرکاری سطح پر جاری کیے گئے بیانات ذومعنی ہیں، مثلاً:3جون کو چین، پاکستان اور افغانستان کی اشرف غنی حکومت کے وزرائے خارجہ کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہوئے تو اس کے اعلامیے میں کہا گیا: ’’طالبان دہشت گرد ہیں‘‘، نیز کہا گیا: ’’تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا:’’جو حکومت افغانستان میں طاقت کے ذریعے آئے گی، اُس کی حمایت نہیں کی جائے گی ‘‘، ہماری دانست میں اس اجلاس اور اس اعلامیے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ تحریک طالبان پر ’’دہشت گردی کی مہر ثبت کریں ‘‘ ، کچھ معلوم نہیںکہ آئندہ کابل کی مسندِ اقتدار کی صورت گری کیا ہوگی، کیا ہمارے اس بیان سے طالبان خوش ہوں گے، اگر مستقبل میں وہ کابل میں اقتدار پر فائز ہوتے ہیں، تو کیا ہمیں اُن سے معاملات طے نہیں کرنے ہوں گے۔ برطانیہ نے پالیسی بیان دے دیا ہے کہ اگر کابل میں طالبان برسرِ اقتدار آتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔پس ہمیں یہ گردان چھوڑ دینی چاہیے : ’’ہم کابل میں طاقت کے زور پر قائم حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے ، ہم جمہوری حکومت کو تسلیم کریں گے‘‘، حالانکہ یہ نوشتۂ دیوارہے کہ آخر کار فیصلہ طاقت کے بل پر ہی ہوگا ، پرامن طریقے سے اقتدار کو کوئی نہیں چھوڑتا۔ پس اس کے برعکس ہمیں یہ کہنا چاہیے :’’کابل میں جو بھی حکومت قائم ہوگی، ہم اُسے تسلیم کریں گے اوراُن کے ساتھ تعاون کریں گے‘‘، کیونکہ پہلے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اگر طالبان طاقت کے بل پر کابل میں مسندِ اقتدار پر فائز ہوتے ہیں ، تو ہم انہیں تسلیم نہیں کریں گے، اس سے طالبان کو منفی پیغام جاتا ہے ، اس سے ہمارے اداروں کی عشروں کی محنت ضائع ہوجائے گی اور ہم ایک نئی مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوجائیں گے ۔
خود امریکا بھی طاقت کے بل پر ہی کابل میں متمکّن ہوا اور بالترتیب حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کا اقتدار بھی امریکی طاقت ہی کا مرہون منت رہا، آج امریکہ ہاتھ اٹھالے تو ڈاکٹراشرف غنی ہمارے معین قریشی اور شوکت عزیز کی طرح بستر بوریا سمیٹ کر امریکہ جاپہنچیں گے۔البتہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں :’’ہم افغانستان میں امن کے حامی ہیں ، پرامن افغانستان ہمارے، پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے‘‘۔
تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان سہیل شاہین کے ٹی وی انٹرویو کے اہم نکات یہ ہیں:’’ہم معاملات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتے ہیں، دوحہ کے کامیاب مذاکرات اور ان پر عمل درآمد اس کا واضح ثبوت ہے۔پاکستان ہماراپڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے، وہ ہمیں مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن کوئی ہمیں ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا، یہ ہمارے اور مسلّمہ عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں، ٹیکنالوجی سے استفادہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔ جو اضلاع ہمارے قبضے میں ہیں، وہاں اخبارات اورمیڈیا کے ادارے فعال ہیں، اس میں کوئی مضایقہ نہیں ہے، البتہ ہماری اقدار اور روایات کی پاسداری کرنی ہوگی۔ اسلام انسانی آزادی کا محافظ ہے، موسیقی اور اس جیسے معاملات کا فیصلہ علماء کریں گے‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’زیادہ تر علاقوں میں لوگ خود ہمارے ساتھ آکر مل گئے ہیں، افغان فوجی سرنڈر نہیں کر رہے، بلکہ ہمیں جوائن کر رہے ہیں، ہم اکثر جگہ مقامی انتظامیہ کو برقرار رکھ رہے ہیں، ہم نے امارتِ اسلامی کی بیعت کی ہے، ہم نے بیس سال جہاد کیا ہے اور امارتِ اسلامی کی منظوری سے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں‘‘۔
اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کے طالبان بیسویں صدی کے آخری عشرے کے طالبان سے مختلف ہیں، سفارتی زبان سمجھتے ہیں اور اس کا بخوبی استعمال کرتے ہیں، یہ ’’وہ آگیا، وہ چھاگیا‘‘ والا انداز اختیار نہیں کر رہے، منصوبہ بندی اور ٹھیرائو کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے اندر بلا کا اعتماد ہے، یہ اپنے آپ کو افغانستان کے اقتدار کا حقیقی وارث سمجھتے ہیں اور ماضی کی طرح عجلت میں نہیں ہیں، یہ امریکا کے ساتھ اس معاہدے پر بھی قائم ہیںکہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ مستقبل قریب میں افغانستان میں رونما ہونے والے مواقع اور امکانات سے بھی واقف ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چین اور روس سے بھی ان کے معاملات اور مذاکرات چل رہے ہیں، یہ ایران سے بھی مخاصمت نہیں چاہتے، جب وہ یہ کہتے ہیں :’’کوئی ایک طبقہ افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکتا ، سب کو ملا کر چلنا ہوگا ‘‘، توہماری دانست میں ان کی مراد اشرف غنی حکومت نہیں ہے، بلکہ افغانستان میں موجود تاجک ، ازبک ، ترکمان اورہزارہ الغرض تمام طبقات اور قبائل مراد ہیں۔ لگتا ہے : یہ ان کے حقیقی نمائندوں سے معاملات طے کریں گے اور سب کو ان کی جسامت اور حیثیت کے مطابق شریکِ اقتدار کریں گے، لیکن مؤثر کنٹرول اور پالیسی سازی ان کے ہاتھ میں ہوگی، وہ پہلے ہی مزاحمت سے دستبردارہونے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرچکے ہیں۔
پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ جس طرح ہم توقع کرتے ہیں کہ دنیا ہم سے باوقار انداز میں بات کرے، معاملات طے کرے، ہمیں اپنے زیر تسلط نہ سمجھے ، ہمیں اپنی شرائط ڈکٹیٹ نہ کرے، ہم ایک دوسرے کو معقولیت اور دلیل واستدلال کی بنیاد پر قائل کریں، معاملات طے کرتے وقت ہمیں تعلّی اور خوش فہمی کے بجائے اپنی استعداد ، صلاحیت اور امکانات کو سامنے رکھنا چاہیے،
تحریک طالبانِ افغانستان کے ساتھ بھی باوقار انداز میں معاملات طے کرنے چاہییں۔ بہرحال طالبان اپنے آپ کو فاتح سمجھنے میں حق بجانب ہیں، سی پیک کی کامیابی کی کلید افغانستان کے امن میں ہے۔ امید ہے کابل میں مسندِ اقتدار پر براجماں ماضی کی حکومتوں کے برعکس طالبان کو بھارت اپنی شرائط ڈکٹیٹ نہیں کرسکے گا، اسے بھی برابری کی سطح پر معاملات طے کرنے ہوں گے۔
چند دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کو وحشی سمجھنے والے لبرل اب قدرے حقیقت پسند بنتے جارہے ہیں، ان کی برتر حیثیت کو تسلیم کر رہے ہیں اور اس بات کے لیے آمادہ ہیں کہ ان کے ساتھ برابری کی سطح پر معاملات طے کیے جائیں، کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کے اپنے ملک میں بے امنی اور دہشت گردی فروغ پائے ۔ صرف امریکا اور اس کے اتحادیوں سے خطرہ ہے کہ شایدوہ افغانستان میں دیرپا امن کو اپنے مفاد میں نہ سمجھے، کیونکہ طالبان برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پڑوسیوں کو ہم سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان کے مرکز کا رخ کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک سے ملنے والے سرحدی اضلاع کوپرامن انداز میں کنٹرول کر رہے ہیں تاکہ وہ ممالک طالبان کے اقتدار کو اپنے لیے خطرے کی علامت نہ سمجھیں۔
وزیر اعظم پاکستان نے بجا طور پر دو ٹوک انداز میں کہا ہے :’’ہم اپنی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے اڈے نہیں دیں گے ‘‘، یہ پوری قوم کے دل کی آواز ہے اور اس پر لفظاً ومعناً عمل ہونا چاہیے، ہماری دعا ہے کہ کوئی ملک ہماری فضائی حدود کو بھی افغانستان میں کارروائی کے لیے استعمال نہ کرے، کیونکہ امریکا کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ وہ ڈرون حملے کرسکتا ہے، نیز اس کے پاس فضا میں جہاز میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، اس لیے وہ بحرین ، قطر یا دوردراز سے بھی فضائی حملے کرسکتا ہے، بمباری کرسکتا ہے، لیکن دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ افغان جنگ سے نکلنے کے بعد دوبارہ اس میں ملوث نہ ہو، طالبانِ افغانستان کا امتحان ہے کہ وہ طالبانِ پاکستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی سے کیسے روکتے ہیں، اسی پر دونوں ممالک کے تعلقات کا انحصار ہوگا۔