بارش اور کے الیکٹرک کی ستم ظریفی

113

کراچی کے شہریوں کے لیے انتظامیہ باران رحمت کو ہمیشہ ایک عذاب بنا دیتی ہے۔ایک جانب نکاسی آب کا تباہ حال نظام اور برساتی نالوں کی عملی صفائی کے بجائے کاغذوں میں کی جانے والی صفائی کے نتیجے میں برساتی پانی لوگوں کی گلی محلوں اور گھروں میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوتی ہے ۔اس علاوہ ستم ظریفی یہ کہ ادھر بارش کی پہلی بوند پڑی کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے پورے شہر کی بجلی بند کر دی ۔اس مرتبہ بھی جیسے ہی بارش شروع ہوئی پورے شہر میں کے الیکٹرک نے بجلی کا بریک ڈائون کر دیااور شدید بارش اور اس کے نتیجے میں ہونے والے شدید حبس و گرمی میں شہر تاریکیوں میں ڈوب گیا۔بارہ بارہ گھنٹے بجلی غائب رہنے کی وجہ سے کراچی کی عوام کی چیخیں ہی نکل گئی لیکن کے الیکٹرک کی سفاک انتظامیہ سب اچھا ہے کا راگ لاپتی رہی۔ پچھلے سال تباہ کن بارشوں کے نتیجے میں 70سے زائد اموات کے الیکٹرک کی نااہلی کی وجہ سے کرنٹ لگنے سے ہوئی تھیں اور کلفٹن کے قریب تین سگے جوان بھائیوں کی ہلاکت بھی زمین دوز بجلی کی لائن میں کرنٹ آنے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔کے الیکٹرک نے پچھلے سال کی غلطیوں سے کچھ سبق حاصل کرنے کے بجائے اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے واضح احکاامات کے باوجود مون سون کی بارشوں کے لیے کوئی تیاری نہیں کی اور عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ۔البتہ رینجرز اور پولیس اہلکار بارش کے بعد سڑکوں پر نکلے اور وہ عوام کو بجلی کی تنصیبات سے دور رہنے اور انہیں گھروں میں رہنے کی تلقین کرتے رہے ۔کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور ان کے سرپرستوں کو دادضرور دینی پڑے گی کہ جوکام کے الیکٹرک کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے ادارے کر رہے تھے اور کے الیکٹرک کے ذمہ دار بارش کے بھرپور طریقے سے مزے لے رہے تھے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے شک ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان ومال کی حفاظت کریں لیکن ایک جانب شہر کراچی میں قانون اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتیں سب کے سامنے ہیں ایسے میں رینجرزاور پولیس اہلکاروں سے کے الیکٹرک کی بدانتظامی پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں روڈوں پر دوڑانا ظلم ہے ۔خیر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔کے الیکٹرک اور اس کے اسٹیک ہولڈر جس میں اقتدار میں موجود تمام پارٹیاں ہیں وہ کے الیکٹرک کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہیں ۔پچھلے سال کے الیکٹرک کی نااہلی کی وجہ سے کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کی جانب سے اس کے خلاف معصوم لوگوں کی ہلاکتوں پر قتل کی ایف آئی آر درج کراوئی گئی لیکن وزیر اعظم کے دست راست کے الیکٹرک کے چیف عارف نقوی جو کہ کرپشن اور منی لارڈرنگ کے مقدمے میں روپوش اور فرار ہیں اور ان ہی کے ایماء پر حکومتی سطح پر کے الیکٹرک کو پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ اور اب تحریک انصاف کے دور میں حکومتی چھتری فراہم کی جارہی ہے۔ پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے گشت کے باوجود اس بار بھی شہر میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ قربانی کے جانور بھی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے ہیںاور اب تک آٹھ کے قریب انسانی جانوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے ۔کے الیکٹرک کی انتظامیہ لوگوں کو تسلی اور تشفی دینے کے سواء کوئی دوسرا کام نہیں کر رہی ہے ۔بارش شروع ہوتے ہی کے الیکٹرک کا پوراسسٹم اور پورا نظام ریت کی دیوار ثابت ہوااور شہر کا ایک بڑا حصہ بجلی سے محروم ہوگیا۔شہر کے مختلف حصوں میں بارش سے قبل ہی بجلی معطل ہوگئی اور کے الیکٹرک کے ایک ہزار سے زائد فیڈرز متاثر ہوئے ۔کچھ فیڈرز کو بارش سے قبل ہی احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر دیا گیا تھااور کچھ فیڈرز بارش سے ٹرپ ہوگئے تھے ۔ایک جانب کے الیکٹرک پورا سال مرمت اور مینٹینس کے نام پر یومیہ 9 سے 10گھنٹے بجلی بند کرتی ہے اور اب بارش میں حادثات کی روک تھام کے نام پر پورے سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے ۔کے الیکٹرک کی نااہلی ،نالائقی اور ان کے بوسیدہ نظام نے ثابت کر دیا ہے کہ کے الیکٹرک مکمل طور پر کراچی کے عوام کو بجلی فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔کے الیکٹرک روز اول سے صرف غریب عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کے سواء کوئی دوسرا کام نہیں کر رہی ہے ۔حکومت نے کراچی میں لگے بجلی کے کھمبوں کی قیمت پر کے الیکٹرک کو فروخت کیا اور کے الیکٹرک نے اربوں روپے مالیت کے تانبے کے تار لائنوں سے اتار کر بیچ ڈالے ۔غریب عوام کو اوور بلنگ ،اوور لوڈنگ ودیگر جھوٹے سرچاج لگا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹا ۔جماعت اسلامی کے سواء کوئی اورکراچی کے عوام کا مقدمہ لڑنے بھی میدان میں نہیں آیا ۔جماعت اسلامی ہی تھی جس نے کے الیکٹرک جیسے بد مست ہاتھی کو لگام دی اور انہیں نکیل ڈالی۔ آج بھی کئی مقدمات عدالت میں موجود ہیں اگر ان پر جلد فیصلہ ہوگیا تو پھر کراچی کی عوام کو بڑا ریلیف ملنے کے امکانات موجود ہیں ۔ کراچی کے عوام بھی جماعت اسلامی کراچی کے جرات مند امیر حافظ نعیم الرحمان کی پشت پر کھڑے ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کے الیکٹرک نے اپنے مفادات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کواپنی مٹھی میں رکھا اور ان کی مٹھی کو گرم کر کے کراچی کی عوام کو الٹی چھری سے ذبح کیا جارہا ہے۔ کراچی کے عوام اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور لوٹ مار پر چیختے رہے چلاتے رہے لیکن کسی نے ان کی آوازکو نہ سنا۔ بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کے بچے اور رشتہ دار کے الیکٹرک میں بھاری تنخواہوں پر ملازم بھرتی ہوئے اور کے الیکٹرک نے انہیں سیاسی رشوتیں دے کر ان سب کا منہ بند کروا دیا۔تمام تراحتجاج کے باوجود کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کو مہنگی ترین بجلی فروخت کر رہی ہے ۔جس کے باعث کراچی کے رہائشی عوام کے ساتھ ساتھ اب سرمایہ دار طبقہ بھی پریشان اور مشکلات کا شکار ہوگیا اور کارخانوں کو تالے لگائے جارہے ہیں اوربڑی تعداد میں کارخانے پنجاب منتقل ہونا شروع ہوگئے ہیں جس کے باعث کراچی میں بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔کراچی کے بڑے صنعت کار میاں تنویر احمد مگوں نے اپنی لیدر ٹینری مکمل طور پر چینیوٹ منتقل کر لی ہے اور گزشتہ دنوں معروف صنعت کار ایس ایم منیر نے بھی پریس کانفرس کر کے اعلان کیا کہ کراچی میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ سے اب تک درجنوں صنعت کار اپنی صنعتیں بند کر کے پنجاب شفٹ کر رہے ہیں اور سی پیک منصوبہ جس دن حسن ابدال تک پہنچ گیا تو پھر پنجاب سے تعلق رکھنے والے کی ترجیحات کراچی کے بجائے پنجاب ہی ہوگی ۔اس کے علاوہ سی پیک کی چھتری تلے ملک کے پہلے رشکئی صنعتی زون کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے زون میں اسٹیل کے یونٹ سے پیداوار کا آغاز دسمبر سے شروع ہوجائے گا ۔رشکئی اکنامک زون سے پاکستان میں صنعتی شعبے کو فروغ ملے گا۔کراچی میں بجلی اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ صنعت کار اب اپنا بوریا بستر لپیٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ اتنی مہنگی بجلی سے صنعتی ترقی ممکن ہی نہیں ہے اور صنعت کاروں کا اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ حکومتیں ہمیشہ صنعت کاروں کو ریلیف فراہم کرتی ہیں اور سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے
جس کی واضح مثال بھٹو اور ضیاء الحق کے زمانے میں نوری آباد انڈسٹریل زون ،حیات آباد انڈسٹریل زون اور صوبہ سرحد کے علاوہ سیالکوٹ میں بھی ایسے انڈسٹری زون قائم کئے گئے جہاں صنعت کاروں کو سستی بجلی فراہم کی گئی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ صنعتیں لگیں اور محنت کشوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہو سکیں لیکن کراچی میں جس طرح سے کے الیکٹرک نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے اس سے ایک عام غریب آدمی کے ساتھ ساتھ صنعت کار اور سرمایہ دار طبقہ بھی پریشان اور انتہائی مشکلات کا شکار ہوگیا ہے لیکن کے الیکٹرک کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور تواور وہ ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے پر تول رہی ہے اورماہانہ اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 6روپے52پیسے مہنگی کی جارہی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آئے ہوئے ہیں ایسے میں روز روز بجلی اور گیس کی قیمتوں میںہونے والے اضافوں نے انہیں زندہ درگور کر دیا ہے۔ باران رحمت کے برسنے سے رحمت کا نزول ضرور ہوا ہے لیکن کے الیکٹرک کی نااہلی نے یہ رحمت کراچی کی عوام کے لیے ایک زحمت بنا دی ہے اور غریب عوام پریشان ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے ۔