موجودہ نیب کے تحت احتسا ب ممکن نہیں

214

یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت نیب قوانین میں ترمیم پر غور کر رہی ہے لیکن یہ ترمیم بھی محدود نوعیت کی تجویز کی جارہی ہے جب کہ ضرورت اس ادارے کو یکسر تبدیل کرنے کی ہے کیونکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ نیب کا موجودہ ادارہ جو ایک فوجی حکمران نے سیاست دانوں پر دباو ڈالنے اور پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے قائم کیا تھا اس کا احتساب سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ حقیقی معنوں میں بد عنوانیوں کے خاتمے کا اس کا مقصد تھا۔
سچ بات تو یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے پاکستان میں نیب کا یہ ادارہ دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے۔ ہندوستان میں کرپشن پر کنٹرو ل کے لیے سی بی آئی ہے۔ 1963ء میں جب میں روزنامہ جنگ کے نمائندے کی حیثیت سے دلی میں تعینات تھا تو اس وقت بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ سی بی آئی کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے پہلے سربراہ کابینہ کی ایک کمیٹی کی سفارش پر مسٹر کوہلی مقرر کیے گئے تھے۔
اس کے برعکس پاکستان میں نیب کا سربراہ حکومت اور حزب مخالف کے اشتراک سے انتخاب کے ذریعہ مقرر کیا گیا تھا۔ دنیا میں کہیں ایسے اہم ادارہ کا انتخا ب ا س طرح عمل میں نہیں آتا۔ پھر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کرپشن کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کا ادارہ موجود ہے تونیب کے قیا م کی کیا ضرورت تھی۔
ہندوستان کی طرح برطانیہ میں بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے نیب کی طرح کوئی ادارہ نہیں۔ برطانیہ میں اس مقصد کے لیے پولس کے تحت سیریس فراڈ آفس قائم ہے اس کا سربراہ اٹارنی جنرل مقرر کرتے ہیں۔ پچھلے مہینے اس ادارے کا سربراہ ایک خاتون لزااسوفسکی کو مقرر کیا گیا ہے جنہیں مالی جرائم کی روک تھام کے شعبہ میں 30سال کا تجربہ ہے۔ کرپشن کی روک تھام کے ایسے اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری کو سیاست سے یکسر جد ا رکھنے کے لیے اٹارنی جنرل کو اختیار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب تک کسی تقرری پر تنازعہ نہیں ہوا ہے۔
امریکا میں بھی کرپشن کی روک تھام کے لیے سی بی آئی ہے جس کے سربراہ کا انتخاب، وزارت انصاف کرتی ہے۔
ہندوستان، برطانیہ اور امریکا اور دوسرے ممالک میں کرپشن پر کنٹرول کے جو ادارے ہیں ان کے قیام کے سلسلے میں سنجیدگی عیاں ہے اور پاکستان کی طرح حالات نہیں ہیں جہاں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے نیب کی وجہ سے احتسا ب مذاق بن گیا ہے۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک نیب حزب مخالف کے خلاف انتقامی کارروائی کا گڑھ بن گیا ہے اور یہی نہیں بلکہ پلی بارگین کی وجہ سے احتساب بھی سودے بازی کا شکار بن گیا ہے۔ کرپشن کے ذریعے کروڑوں روپے حاصل کر کے اس میں سے کچھ رقم پلی بارگین کے نام پر ادا کر کے کسی سزا سے بچنے کا یہ عجیب و غریب طریقہ ہے۔
اس صورت حا ل میں احتساب ممکن نہیں اس لیے لازم ہے کہ احتساب کے موجودہ طریقہ میں یکسر تبدیلی کی جائے اور کرپشن کی روک تھام کے لیے نیب کی جگہ سی بی آئی ایسا ادارہ قائم کیا جائے تاکہ موثر طریقہ سے کرپشن کے خلاف کارروائی کی جاسکے اور نیب پر جانبداری کا داغ دھویا جا سکے۔