خوش آمدید میرے بھائی

195

منیر نیازی کہہ گئے ہیں:
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جاکر مگر رہا نہ کرو
وزیراعظم عمران خان کے باب میںبھی یہی کہا جاسکتا ہے۔ ان کے خواب، اقوال، اصولی باتیں اور سچائیاں صرف اقتدارکے ایوانوں تک رسائی کے لیے تھیں۔ حکومت میں آ کر اپنے ماضی کے بیانیے اور خوابوں کے ساتھ رہنا انہیں گوارا نہیں۔ کل تک وہ جن کا ذکر حقارت سے کرتے تھے اقتدار کے دوام کے لیے آج آگے بڑھ بڑھ کر نہ صرف انہیں بلکہ ان کی اگلی نسلوںکوگلے لگارہے ہیں۔ کل تک وہ جنہیں ذلیل کرتے تھے، ادنیٰ اور کمینہ سمجھتے تھے، بڑے بڑے جلسوں میں رسوا اور شرمسار کرتے تھے آج سب سے زیادہ وہی ان سے قریب ہیں۔ ان کا مسئلہ سمجھ سے بالا ہے۔ اقتدار کے چوتھے برس میں داخل ہیں۔مزیدسال دوسال اور گزار لیںگے، اس کے لیے اتنی بے ضمیری،اتنی سودے بازی ۔ ایک طویل سفر کے بعدقول وفعل کے تضاد کی جس نجاست کا مظاہرہ وہ کرتے آرہے ہیں وہ حیران کن اور شرم ناک ہے۔ مخالفین کے سامنے وہ جتنے دلیر سمجھے جاتے تھے، جس دیانت کے علمبردار تھے اقتدار کی راہداریوں میں انہوں نے وہ سب کچھ گنوادیا ہے ۔ضمیر انسان کے اندر اللہ سبحانہ وتعالی کی پوشیدہ مگر واضح آواز ہے۔ آج اپنے ضمیر سے بات کرناتو درکنار وہ اس کا فون بھی اٹھانے کے لیے تیارنہیں ہیں۔
عمران خان کہا کرتے تھے آزاد آدمی کبھی اپنے ضمیر کے خلاف نہیں جاتا۔آج اقتدار نے ان کے ہاتھ ایسے باندھ دیے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کبھی یہ شخص آزاد اورصاحب ضمیرتھا۔وہ جلسوں میں بتایا کرتے تھے قومیں کیسے بنتی ہیں،صحابہ کرام کی مثالیں دیا کرتے تھے ۔مغرب میں اصولوں کی پاسداری کے قصے سناتے تھے ۔آج انہیں اپنے کسی حرف کا پاس نہیں، کوئی بات یاد نہیں۔کل وہ کہتے تھے میں کسی کرپٹ شخص کو نہیں چھوڑوں گا آج وہ ہرکرپٹ شخص کو عزت دے رہے ہیں۔ بیس برس تک وہ پرویز الٰہی کی کرپشن اور لوٹ مار کے قصے بیان کرتے رہے۔ پنجاب کا سب سے بڑاڈاکو قرار دیتے رہے ۔شدت سے نفرت کا اظہار کرتے رہے، پرویز الٰہی کی نفرت میں پرویز مشرف سے دور ہوئے، تب کون تصور کرسکتا تھا کہ عمران خان ایسے شخص سے کبھی کوئی رابطہ اور تعلق استوار کریں گے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پرویز الٰہی ان کے سب سے بڑے اتحادی ہیں۔ کرپشن ،بدعنوانی اور بے ضمیری کے خلاف عمران خان عوام کا خواب تھے۔ انہوںنے جس طرح اس خواب کو چکناچور کیا ہے خواب فروشی کے دھندے سے وابستہ لوگ بھی حیران ہوں گے۔
پرویز الٰہی گزشتہ تین برس سے اپنے صاحبزادے مونس الٰہی کو وفاقی کا بینہ میں شامل کرنے کے درپے تھے۔ وزیراعظم عمران خان ایسا کرنے پرتیار نہیں ہوتے تھے۔ اسے وزیراعظم کے بااصول ہونے سے تعبیر کیا گیاکیونکہ2013ء میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میںقراردیا تھا کہ مونس الٰہی نے این آئی سی ایل اسکینڈل میں 34 کروڑ روپے کی چوری کی ہے جو لندن کے برکلے بینک میں موجود ہیں، ان سے وصول کیے جائیں۔ چینی کے بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے بھی جہانگیرترین کے ساتھ مونس الٰہی کو بحران سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل کیا تھا ۔مونس الہی کے خلاف وہ کوئی قدم تو کیا اٹھاتے اس ہفتے 13جولائی کو انہوں نے اسے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل بنادیا۔ اقتدار بچانے کے لیے عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور نہ اپنی ہی بنائی کمیٹی کی رپورٹ پر توجہ دی۔ مونس الٰہی سے پہلے اس وزارت کے لیے وزیراعظم عمران خان کا انتخاب فیصل واڈا تھے ۔قومی اسمبلی سے ان کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی ۔ان تقرریوں سے وزیراعظم کے انتخاب کے معیار کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے ۔مزے کی بات یہ کہ اس اجلاس میں وزیراعظم نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں کیا جائے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے اس خبر کے اسکرین شاٹ کے ساتھ چوہدری مونس الٰہی کو مینشن کرتے ہوئے لکھا ’’ویلکم مائی برادر۔‘‘جب بھی پرویز الٰہی نے مونس الٰہی کو وزیر بنانے پرزوردیا عمران خان کوئی دوسرانام تجویز کرنے کا کہتے رہے۔ پرویز الٰہی نے سینٹ الیکشن میں جب پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اورن لیگ کا اتحاد کرواکر سینیٹرز کو بلا مقابلہ کا میاب کروایا، بجٹ کی منظوری اور وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ میں ساتھ دیااور ساتھ ہی بلیک میلنگ کا حربہ آزماتے ہوئے بجٹ سے قبل وزیراعظم کے استقبا لیہ کا بائیکاٹ کیا تو وزیراعظم عمران خان نے اصولوں پر لعنت بھیجی اور انہیں گلے سے لگا لیا۔ان کا ضمیر حالات کے قدموں میں گرپڑا۔
2018میں وزیراعظم کا منصب سنبھالنے سے پہلے انتخابی وعدوں میں عمران خان جس وعدے کی بار بار تکرار کرتے رہے ان میں سے ایک احتساب کے عمل کو تیز رفتار موثراور شفاف بنانا تھا۔نیب کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال بھی سست روی کا شکار مقدمات کو جلد ازجلد نمٹانے کی یقین دہانی کرواتے رہے ۔4جنوری 2000سے چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں مقدمہ نیب میں درج تھا۔ نیب کے دعوے کے مطابق چوہدری بردران نے قومی خزانے کو 2.42ارب کا نقصان پہنچا یا تھا۔اسی سال چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین پر 28پلاٹوں کی غیر قانونی خریداری کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ چودھری پرویز الٰہی پر غیرقانونی بھرتیوں کے الزام میںبھی نیب میں مقدمہ درج تھا۔دوبرس تک ان مقدمات پر تیزترین کارروائی کی گئی لیکن 2002میں ق لیگ کے قیام اور چودھری برداران کے مشرف حکومت میں شامل ہونے کے بعد ان مقدمات کی کارروائی سست روی کا شکار ہوگئی ۔اس دوران چودھری بردران پنجاب میں وزیراعلیٰ رہے ،ملک کے عبوری وزیراعظم بنے ،زرداری حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم رہے،کسی بھی دور میں وہ یہ مقدمات ختم نہ کراسکے،یہ مقدمات چلتے رہے لیکن وزیراعظم عمران خان کے دور میں یہ مقدمات ختم کردیے گئے ۔وزیراعظم نے اپنے وزیروں کو ہدایت دی تھی کہ نیب سے چوہدری برادران کے مقدمات ختم کرائو، لہٰذا خود نیب نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ مقدمات بند کردیے جائیں۔ نہ جانے کیوں اس موقع پر جسٹس جاویداقبال نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت گروہ اور فرد سے نہیں ہے ۔
کا ہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے ،جھوٹی قسم جو کھاتے تم
غیرت سے آجاتا پسینہ آنکھ نہ ہم سے ملاتے تم
بے ضمیری کے آگے گھٹنوں کے بل گر جانا، اپنے کہے سے نہ صرف ڈھٹائی سے مکرجانا بلکہ اس کے خلاف عمل کرکے بھی دکھانایہ سیاست نہیں، حکومت نہیں، نوسر بازی اور فریب ہے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی مدت اقتدار تو ان بے اصولیوں اور بے ضمیری سے پوری کرلیں گے لیکن پاکستان کی تاریخ میں وہ کسی اچھے نام سے نہیں پکارے جائیںگے۔ قائداعظم نے کہا تھادولت چلی جائے تو کچھ نہیں گیا، صحت چلی جائے تو سمجھو بہت کچھ گنوا بیٹھے لیکن honourرخصت ہوجائے تو سمجھو کچھ بھی باقی نہیں بچا۔وزیراعظم عمران خان نے اقتدار کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگادیا لیکن اس کے باوجودتاریخ میںان کے دور کا حوالہ بس یہی ہوگا:
حادثہ تھا گزر گیا ہو گا
کس کے جانے کی بات کرتے ہو