آرٹس کونسل میں ناول نگار شمس الرحمان کی یاد میں پروگرام

43

کراچی ( پ ر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پروگرام آن لائن ’’ ٹریبیوٹ ٹو شمس الرحمان فاروقی ‘‘ کا انعقاد آرٹس کونسل کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں کیا گیا ، شمس الرحمان فاروقی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف علمی و ادبی شخصیات نے آن لائن شرکت کی، پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے ادا کیے، شمس الرحمان فاروقی کو یاد کرتے ہوئے افتخار عارف نے کہا کہ شمس الرحمان تو ہمارے زمانے کے اتنے بڑے نقاد تھے جس کا ہمیں ابھی اندازہ بھی نہیں ہے ،شمس الرحمان کا جانا اردو ادب اور ہماری تہذیب کا بڑا نقصان ہے ،ہم ان کو یاد کرتے ہیں اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، وہ صحیح معنوں میں ایک ادارہ تھے ،جو متواتر کام کرنے کے ماہر تھے۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن نے کہا کہ آرٹس کونسل اور احمد شاہ ہمیشہ اپنے بڑے ادیبوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں، شمس الرحمان فاروقی مختلف زمانوں میں مختلف حوالوں سے معروف ہیں ، بیسویں صدی کے آخر تک وہ جدیدیت کے حوالے سے معروف ہیں ، میر پر ان کا بڑا کام ہے، ایک وقت آیا کہ وہ داستانوں کے حوالے سے پہچانے جانے لگے اور اکیسویں صدی میں فکشن نگار کی حیثیت سے ان کی تحریروں میں ہندوستان کی تہذیب نظر آتی ہے۔ مبین مرزا نے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی نے تراجم،لغت،فکشن سمیت ادب کے ہر شعبے میں کام کیا اور اپنے زبان و ادب کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ شمس الرحمان فاروقی کی بیٹی مہر افشاں فاروقی نے اپنے والد کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کی حیثیت سے میں کہنا چاہوں گی ، ان کا مزاج ایسا تھا کہ وہ ہر عمر کے لوگوں سے جڑ جاتے تھے، وہ ایک ہی وقت میں بہت ہی ہم عصر اور ماڈرن انسان تھے ۔وہ غیر معمولی ذہانت کے حامل تھے، وہ ہمہ وقت ادبی گفتگو کیلیے تیار رہتے تھے۔