گھریلو تشدد بل خاندانی نظام پر حملہ ہے،ریاست کو گھر میں مداخلت کا اختیار دینا خاندان توڑنے کے مترادف ہے،جماعت اسلامی کے تحت سیمینار

160
اسلام آباد:نائب امیر جماعت اسلامی پروفیسر ابراہیم گھریلو تشدد بل سے متعلق سیمینار سے خطاب کررہے ہیں، سینیٹر مشتاق احمد خان ودیگر بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت )نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق سینیٹر پرو فیسر محمد ابر اہیم خان نے کہا ہے کہ گھریلوتشدد کا بل کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ یہ پوری پاکستانی قوم کا اجتماعی مسئلہ ہے جس میں خاندانی نظام پر حملہ کیا گیا ہے ، اس بل میں لکھ گیا ہے کہ پاکستان میں گھریلو تشدد بہت زیادہ ہورہا ہے ،تین صوبوں میں گھریلو تشدد بل پر عمل شروع ہوچکا ہے ، انھوں نے کہاریاست کو اس حد تک گھر میں مداخلت کا اختیار دینا گھر توڑنے کے مترادف ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بل کے خلاف ساری قوم شاہراہ دستور پر نکل آئے ،ملک میں عوام کو غریب اور اسلام ا سے متصادم قوانین کے حوالے سے ہماری عدلیہ کا بھی منفی رول رہا ہے گھریلو تشدد بل کو تسلسل سے ہونے والے واقعات کی کڑی کے طورپر دیکھنا ہوگا ،ہر گزرتے دن کے ساتھ سیکولر عناصر آگے بڑھتے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر اہتمام گھریلو تشدد بل ایک جا ئزہ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ سیمینار سے ڈا کٹر شاہد رفیع ، معروف مذہبی اسکالر مولانا خلیل الرحمن چشتی ،معروف قانون دان ذوالفقار عباسی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ، علامہ زاہد الرشیدی ،ریسرچ آفیسر اسلامی نظریاتی کونسل عبدالرشید، محمدی ترجمان وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا عبدالقدوس اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ پرو فیسرمحمد ابراہیم خان نے کہا اس پوری بل میں اللہ کا نام نہیں اسلامی اخلاق، اقدار،اصول اور تعلیمات کا ذکر نہیں ،قانون سازی بین الاقوامی اداروں کے زیر اثر جاری ہے نہ کہ دستور کے مطابق ،انھوں نے کہا پانامہ کیس میں صرف نوازشریف اکیلا نہیں تھا جماعت اسلامی سپریم کورٹ میں بار بار درخواستیں دے چکی ہے کہ باقی 436افراد کا بھی احتساب ہونا چاہیے ،سپریم کورٹ قوم کا پیسہ لوٹنے والے ان 436افراد کا پوچھنے کی بجائے خاموش بیٹھی ہے ،پروفیسر ابراہیم خان نے کہا ملک کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیکولر ازم کی طر ف دھکیلا جا رہا ہے ڈاکٹر شعیب سڈل کی یکساں نصاب تعلیم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے ، جس میں انھوں نے انگریزی کی کتاب سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کا مضمون نکالنے کی سفارش کی ہے ، ہمیں چاہیے کہ جب بھی ڈاکٹر شعیب سڈل کیس لگے تو پوری قوم کو شاہراہ دستور پر ہونا چاہئے ، انھوں نے کہا آئین کے آرٹیکل 227/228کا اطلاق پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر ہوتا ہے اسی طرح عدلیہ پر بھی ہونا چاہئے۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا پاکستان میں تمام طبقات گھریلو تشدد کے خلاف ہیں گھریلو تشدد کے حق میں کیا کسی عالم دین نے کوئی فتوی دیا ؟،ہم پوچھتے ہیں آخر دینی طبقات کو قانون سازی میںشریک مشاورت کیوں نہیں کیا جاتا ،بجٹ سیشن کے دوران گھریلو تشدد پیش کیا جانا سازش کے تحت تھا ،گھریلو تشدد بل خاندان کے خلاف ٹائم بم ہے ، ہماری پارلیمنٹ غلام ہے جوامریکن وائرس سے متاثرہ ہے،پارلیمنٹ کے ماتھے پر تو کلمہ لکھا ہے مگر اندر کلمہ کے خلاف قانون سازی ہورہی ہے ، انھوں نے کہاجس طرح حکومت کے سربراہ کو اپنے عوام کا اختیار ہے اسی طرح خاندان کے سربراہ کو بھی اختیار ہے،اسلام عدالت میں جانے سے پہلے بھی مصالحت کا حکم دیتا ہے ،گھریلو تشدد بل مصالحت سرے سے کرنے کا مخالف ہے،یہ عجیب قانون ہے کہ ملازم پر تشدد کیا تو ملازم گھر میں رہے گا مالک گھر سے نکال دیا جائے گا ،یہ قانون قرآن و سنت کے خلاف ہے ،سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا عوامی دباو پر اس بل پر پیشرفت تو رک گئی ہے مگر اسے ابھی تک اسلامی نظریاتی کونسل نہیں بھیجا گیا ،لیکن ہمیں اس کے باوجود چوکنا رہنا ہو گا ، تمام دینی جماعتیں قانون سازی کے لئے اپنا ایک نظام بنائیں ،انھوں نے کہا اسی طر ح وقف املاک بل بہت ہی خطرناک ہے اس بل کے تحت کوئی مدرسہ کی زمین نہیں لی جاسکتی اس طر ح کا قانون انگریز نے بھی نہیں بنایا جو موجودہ حکومت کرنے جا رہی ہے ،: ایف اے ٹی ایف سے متعلق نئے قانون میں سیکرٹری داخلہ کو کسی بھی پاکستانی کو کسی ملک کے حوالے کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے،اس سے پہلے کسی پاکستانی کو حوالے کرنے کا اختیار ایک بڑی کمیٹی کے پاس تھا،یہ قانون ریاست کو اغواکار بناتا ہے، سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاہماری آزادی گروی رکھ دی گئی ہے نئی آزادی کی تحریک کی ضرورت ہے۔