کشمیر سے بے وفائی کرنے والے کس منہ سے ووٹ مانگ رہے ہیں،سراج الحق

77

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی سرخیل اب کشمیریوں کی تیسری نسل ہے ۔ مقبوضہ وادی کے باسیوں نے جس طرح بھارت کے ظلم و جبر کا مقابلہ کیا اور آزادی کی شمع روشن رکھی اس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اسلام آباد میں بیٹھے سابقہ و موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کاز سے بے وفائی کی، سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس منہ سے آزاد کشمیر میں ووٹ مانگ رہے ہیں اور کشمیر کی بات کرتے ہیں ۔ پی ٹی آئی ، نون لیگ اور پی پی میں ایک ہی قبیل کے لوگ اور تینوں کا ایک ہی نظریہ ہے یعنی اپنے مفادات کا تحفظ کرو اور عوام کو کسی خاطر میں نہ لائو ۔ موجودہ حکومت نے پاکستان کی رہی سہی معیشت اور اداروں کا بھی بیڑہ غرق کردیا ۔ کب سے کہہ رہے ہیں کہ کشمیر پر ایکشن پلان بنایا جائے اور اس کی آزادی کا روڈ میپ دیا جائے ، مگر حکمران ہیں کہ ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ مودی کے 5 اگست کے اقدام کے بعد کمزور خارجہ پالیسی جاری رکھی گئی اور نئی دہلی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے گئے ۔ کشمیری اپنے بہتر مستقبل کے لیے سٹیٹس کو پارٹیز کا بائیکاٹ کریں اور 25 جولائی کو ترازو پر مہر لگائیں ۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو گزشتہ 73برسوں سے جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ جماعت اسلامی کے قائدین اور ان کے عزیزواقارب نے تحریک آزاد یٔ کشمیر میں اپنا خون بہایا ۔ہم آئندہ بھی کشمیر کی آزادی کی شمع روشن رکھیں گے۔کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیریوں کو ہے۔ وہ راولا کوٹ میں آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے منعقدہ ایک بڑے جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود اور دیگر قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی ۔امیر جماعت نے اس جلسہ سے چند روز قبل مظفر آباد میں بھی کشمیر بچائو کانفرنس سے خطاب کیا ۔ جلسہ میں بزرگوں ، خواتین ، بچوں سمیت کشمیریوں کی بڑی تعداد نے قومی ،جماعت اسلامی اور آزاد کشمیر کے جھنڈے اٹھا کر شرکت کی ۔ امیر جماعت نے شرکاء سے وعدہ کیا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو پاکستان و آزاد کشمیر کو قرآن وسنت کا گہوارہ بنائے گی اور سری نگر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرایا جائے گا ۔ سراج الحق نے کہاکہ تینوں نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ادوار میں آزاد کشمیر کے شہریوں کو غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے ، کشمیر میں انٹرنیٹ ، گیس اور بجلی کی سہولتیں ناکافی جبکہ انفراسٹرکچر کا براحال ہے ۔ موجودہ حکومت نے تین سالوں میں کشمیریوں کی فلاح اور ترقی کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ۔ انہوںنے کہاکہ سینیٹر کی حیثیت سے انہوںنے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ پوری جرأت و طاقت سے لڑا ۔ انہوں نے کہاکہ شاید ہی سینیٹ میں کوئی ایسا دن ہو جس روز ان کی تقریر میں کشمیر کاز کا ذکر نہ ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ان کادل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ ہر فورم پر کشمیر کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ امیر جماعت کا کہنا تھاکہ وقت آگیاہے کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے رہائشی اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور برسوں سے ان پر مسلط ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ انہوںنے کہاکہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا مومن کا سب سے بڑا وصف ہے ۔ امیر جماعت نے مقبوضہ کشمیر میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے آزادی کے متوالوں اور کشمیری مائوں ، بہنوں بیٹیوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں یقین دلایا کہ اسلامیان پاکستان ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انشاء اللہ آزادی کا سورج مقبوضہ کشمیر پر جلد طلوع ہوگا ۔ سراج الحق نے اس موقع پر فلسطین اور افغانستان کے مسلمانوں کی قربانیوں اور جذبہ حریت کو بھی سلام پیش کیا ۔ انہوںنے کہاکہ امت مسلمہ اس وقت تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامیان پاکستان و آزاد کشمیر سمیت امت مسلمہ متحد ہو کر ظلم و ناانصافی کے خلاف ڈٹ جائے ۔