ایرانی ہیکرز کے امریکا اور برطانیہ پر سائبر حملے

88

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) سائبر سیکورٹی کی فرم پروف پوائنٹ کی ایک تحقیق کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ہیکرز کے ایک گروپ نے ایک خفیہ مہم شروع کی ہے جس کے تحت امریکا اور برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور دیگر ماہرین کو ہدف بنایا جا رہا ہے، تاکہ حساس معلومات چوری کی جا سکیں۔ سیکورٹی فرم کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ٹی اے 453 اور چارمنگ کٹن کے نام سے جانا جاتا ہے اور کم از کم جنوری کے مہینے سے یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں برطانوی اسکالرز کا روپ دھارے ہوئے تھا۔ پروف پوائنٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ وہ آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ آیا یہ گروپ آئی آر جی سی کا حصہ ہے، مگر وہ انتہائی اعتماد سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ گروپ آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس جمع کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ آئی آر جی سی انقلابِ ایران کے بعد ایرانی فوج کے متوازی ایک فورس کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ پروف پوائنٹ کے مطابق ہیکرز اس سے پہلے امریکی اور اسرائیلی طبی محققین، میونخ سیکورٹی کانفرنس اور امریکی صدارتی مہم کو نشانہ بنا چکے ہیں۔