میرپور خاص، 80 فی صد علاقوں میں پینے کا پانی کا بحران

17

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) محکمہ پبلک ہیلتھ کی نااہلی کے باعث شہر کے 80 فی صد علاقوں میں پینے کا پانی کا زبردست بحران، پچھلے ایک ہفتے سے شہر کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی بند ہے ،شہری سخت گرمی میں پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ محکمہ پبلک ہیلتھ کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث میرپورخاص شہر کے 80فیصد علاقوں ، ہیر آباد، حمید پورہ کالونی، پاک کالونی، جمنا داس کالونی، میر کالونی، گلشن کالونی، بھانسنگھ آباد ، والکرٹ ، محمود آباد ، کھڈ پلاٹ ، سر وری کالونی ، گلشن حیدر ، کھارپاڑہ ، تھامس آباد ، جوہر کالونی ، نائی پاڑہ ، نور شاہ کالونی ، لال پاڑہ ، لال چند آباد ، غریب آباد ، ڈھولن آباد سمیت دیگر علاقوں میں ان دنوں پینے کے پانی کا سخت بحران ہے اور مقامی لوگ پانی کی تلاش میں برتن سروں پر اٹھائے سر گرداں نظر آتے ہیں میرپورخاص میں نصف درجن سے زائد واٹر سپلائی اسکیموں میں پانی کی وافر مقدار موجود ہونے کے باوجود پچھلے ایک ہفتے سے پانئی کی سپلائی معطل ہے محکمے کی جانب سے جواز یہ بتایا جا تا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی کی سپلائی متاثر ہے جبکہ واٹر سپلائی اسکیموں پر ڈیزل کے ہیوی جنریٹر موجود ہیں لیکن انھیں استعمال نہیں کیا جاتا ہے جبکہ ان جرنیٹروں کے تیل کے لیے یومیہ ہزاروں روپے کی بل بنائے جاتے ہیں جبکہ حال ہی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے ویسٹ جمڑائو حیدر آباد روڈ پر نئی واٹر سپلائی اسکیم تعمیر کی گئی ہے اور اسکا افتتاح بھی ہو چکا ہے جس کے بارے میں کہا جا تا تھا کہ اس واٹر سپلائی اسکیم شروع ہونے کے بعد شہر میں پانی کی کمی نہیں ہو گی لیکن اس کے باوجود شہر کے بیشتر علاقوں میں پچھلے ایک ہفتے سے پانی کی سپلائی معطل ہے جس کی وجہ سے شہری سخت گرمی میں پانی جیسی نعمت سے بھی محروم ہیں جبکہ قربانی کے جانوروں کے پینے کا پانی بھی موجود نہیں ہے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر ہری رام کشوری لعل، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں پینے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو سخت گرمی میں اس اذیت سے نجات دلائی جائے۔