نہروں میں پانی کی قلت کا ذمہ دار محکمہ آبپاشی ہے،جے یو آئی

18

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جے یو آئی اور آبادگاروں کی جانب سے زرعی پانی کی بیگاری کینال، نورواہ، موسیٰ اللہ آباد، نصیر شاخ، انڑواہ اور دیگر شاخوں اور کینالوں میں کمی کیخلاف جے یو آئی اور آبادگاروں کا مظاہرہ، مارچ اور دھرنا، سالانہ گزر بسر کا دارومدار فصل پر ہے۔ پانی کی فراہمی نہ کی گئی تو آبادگاروں کے کنگال ہونے کا خدشہ ہے، ڈاکٹر اے جی انصاری۔ جمعیت علمائے اسلام اور آبادگاروں کی جانب سے بیگاری کینال، نورواہ، موسیٰ اللہ آباد، نصیر شاخ، انڑ واہ، گہٹو شاخ، سون واہ اور دیگر شاخوں اور کینالوں میں زرعی پانی کی قلت اور ہزاروں ایکڑ زمین تباہ ہونے کے خدشے کے سبب ایک احتجاجی مظاہرہ جے یو آئی کے ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری،حاجی محمد عباس بنگلانی، مولانا عبدالجبار رند، مولانا تاج محمد بھٹی، عبداللہ عباس نوناری، قاری عنایت اللہ مہر،مولانا سجاد احمد نوناری، عبدالقادر چنا، عبدالرزاق بلوچ، چاکر خان اور دیگر کی قیادت میں جیکب آباد کے گائوں شاہمراد جکھرانی میں ہوا۔مظاہرین نے پانی کی قلت کیخلاف نعرے بازی کی اور مخدوم بلاول چوک پر دھرنا دیا۔ اس موقع پر جے یو آئی ضلع جیکب آباد کے امیر ڈاکٹر اے جی انصاری اور دیگر نے کہا کہ شاخوں اور کینالوں میں زرعی پانی کی خود ساختہ قلت اور آبپاشی عملے کی نااہلی کے سبب دہان کی فصل تباہ ہو رہی ہے اور آبپاشی عملہ زمینداروں کو پانی فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بار بار شکایت کے باوجود زرعی پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔ وفاق کی جانب سے پانی کم فراہم کیا جارہا ہے لیکن سندھو دریا کے گڈو بیراج سے پانی کی صحیح تقسیم نہیں ہورہی۔ پانی کی فراہمی میں کمی پر وفاق کیخلاف احتجاج ہونا چاہیے سندھ میں پانی کی تقسیم کے نظام کو شفاف بنایا جائے تاکہ آباد گاروں تک پانی صحیح پہنچ سکے ورنہ احتجاج کیا جائے گا۔