میرپور خاص، پولیس نے مویشی منڈی شہر سے باہر منتقل کردی

32

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میونسپل کمیٹی میرپورخاص کی نگرانی میں چلنے والی مویشی منڈی کی نیلامی نہیں ہوسکی، مویشی تاجروں کے سخت احتجاج کے باجود اسسٹنٹ کمشنر کی موجودگی میں پولیس نے زبردستی مویشی منڈی تعلقہ میرپورخاص سے تعلقہ حسین بخش مری کی دیھ 177 کے گوٹھ عبداللہ پنہور میں منتقل کردی، منڈی کی نیلامی نہ ہونے کے باعث میونسپل کمیٹی کو کروڑوں روپے کا نقصان، عیدالاضحی کے دنوں میں منڈی سے وصول ہونے والے لاکھوں روپے کے ٹیکس کا صرف 25 فیصد میونسپل کمیٹی کے سرکاری خزانے میں جمع ہونے کی اطلاع۔ میونسپل کمیٹی میرپورخاص کی نگرانی میں چلنے والی مویشی منڈی کی میرپورخاص سے تعلقہ حسین بخش مری میں منتقلی کا معاملہ عروج پر ہے اور منڈی کی بار بار منتقلی کا معاملہ بااثر شخصیات کے درمیان اختلافات کا سبب بنا ہوا تھا جس کے باعث مویشیوں کے تاجر اور خریدار سخت پریشان تھے گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر شاہدہ پروین جامڑو کی موجودگی میں پولیس نے زبردستی مویشی منڈی تعلقہ میرپورخاص سے تعلقہ حسین بخش مری کی دیھ 117 گوٹھ عبداللہ پنہور میں منتقل کردی ہے۔ منڈی کی منتقلی کیخلاف مویشی تاجروں سے سخت احتجاج بھی کیا تھا، نئے مقام پر لگنے والی مویشی منڈی میں میونسپل کمیٹی کی مقرر کردہ سرکاری فیس چھوٹے جانور بکرے کی پانچ روپے اور بڑے جانور گائے کی سرکاری فیس بیس روپے وصول کی جارہی ہے، دیگر تمام ٹیکس پر پابندی کے ساتھ ساتھ تاجروں اور خریداروں کو سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مویشی منڈی سے عید کے موقع پر یومیہ لاکھوں روپے فیس وصول کی جاتی ہے لیکن میونسپل کمیٹی کے سرکاری خزانے میں وصولی کا صرف 25 فیصد جمع کراکی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہر سال عید سے قبل مویشی منڈی کے ٹھیکے کی نیلامی کی جاتی تھی جس سے میونسپل کمیٹی کو کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی تھی لیکن نیلامی کے اعلان کے باوجود افسران کی عدم دلچسپی اور مویشی منڈی کی منتقلی کے حوالے سے اختلافات کے باعث اس سال مویشی منڈی کی نیلامی نہیں ہوسکی اور مال پیڑی سے میونسپل کمیٹی کے ملازمین اور پرائیویٹ لوگ فیس وصول کر رہے ہیں مال پیڑی کی نیلامی نہ ہونے کی وجہ سے عید کے بعد کم ریٹ پر نیلامی ہو گی جس سے میونسپل کمیٹی کو بھاری نقصان ہو گا جبکہ ڈویژنل ہیڈ کواٹر میرپورخاص ضلع کے دیگر علاقوں کی ٹائو ن کمیٹیوں نے مویشی منڈی کی نیلامی کر کے پرائیویٹ لوگوں کو ٹھیکوں پر دے دی ہیں۔