حیدرآباد،شاہراہیں منڈیوں میں تبدیل،شہریوں کو دشواری

28

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد انتظامیہ کی نااہلی کے باعث شہر و لطیف آباد کی مصروف شاہراہیں مویشی منڈیوں میں تبدیل، شہریوں کو سخت دشواری کا سامنا۔ بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کی جانب سے ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر مویشی منڈی لگانے کے کے لیے ٹھیکہ نیلام کیا جاتا تھا لیکن اس سال عیدالاضحی کے موقع پر مویشی منڈی لگانے کے لیے نیلامی نہ ہوسکی اور مویشی منڈی لگانے کا یہ بیڑا خود بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کی انتظامیہ نے اٹھا کر ایک ناکام تجربہ کیا اور اس ناکام تجربے کی بھینٹ ہمیشہ کی طرح بے چارے شہریوں کو ہی چڑھنا پڑا۔ بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کی جانب سے مویشی منڈی تو لگادی گئی لیکن مویشیوں کے بیوپاریوں نے اپنا کاروبار کے لیے گلی محلوں یہاں تک لطیف آباد کی مصروف شاہراہیں منتخب کرلیں۔ ان مویشی منڈیوں کے باعث جہاں ٹریفک مسائل جنم لے رہے ہیں تو دوسری جانب راہگیروں کو پیدل چلنا تک محال ہے۔ لطیف آباد نمبر 10میں واقعہ بسم اللہ سٹی سے متصل میر کالونی میں قائم غیر قانونی باڑوں میں لاکھوں روپے مالیت کے مویشیوں کی خرید و فروخت بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد انتظامیہ کو منہ چڑا رہی ہے تو دوسری جانب بسم اللہ سٹی میں ہی پارک کے لیے مختص جگہ پر غیر قانونی مویشی منڈی بلا خوف وخطر چلائی جارہی ہے جبکہ بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کی جانب سے مہر علی ہاؤسنگ سوسائٹی میں قائم کی جانیوالی مویشی منڈی کے باہر ڈبل روڈ کہلانی والی شاہراہ پر سیکڑوں کی تعداد میں بیوپاری اپنے مویشیوں کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں جس سے مویشی منڈی کا قیام بری طریقے سے ناکام نظر آتا ہے۔ مویشی منڈی کی ناکامی کا سہرا بھی بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے راشی افسران اور اہلکاروں کے سر جاتا ہے، جن کی آشیر باد سے مویشیوں کا غیر قانونی کاروبار گلی، محلوں اور شاہراہوں پر ہورہا ہے۔