مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھاؤ میں نمایاں کمی

92

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھاؤ میں صوبہ سندھ میں فی من 400 تا 500 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں فی من 600 تا 700 روپے کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اس غیر معمولی مندی کی وجہ بارش سے متاثرہ روئی بتائی جاتی ہے بارشی روئی کی وجہ سے کوالٹی گر جانے سے ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے خریداری روک دی ہے جبکہ کئی جنرز نے بارشی پھٹی خریدنا بند کردی ہے جس کے باعث جننگ فیکٹریاں جزوی طور پر بند کردی گئی کچھ جنرز کے پاس بارشوں سے پہلے کی کچھ پھٹی کا اسٹاک موجود تھا وہ نسبتا زیادہ بھاؤ طلب کررہے ہیں روئی کے بھاؤ میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے جنرز اور پھٹی کے بیوپاریوں میں اضطراب کی کیفیت دیکھی گئی کیوں کہ جنرز نے انچے داموں روئی کی اوور سیل کیا ہوا تھا انکے سودے کھٹائی میں پڑھ گئے اسی طرح پھٹی کے بیوپاریوں کے بھی اونچے بھاؤ کے سودے کھٹائی میں پڑھ گئے جس کی وجہ مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہوگئی۔تاہم کاروباری حجم بھی کم ہوگیا ہے دوسری جانب عید الاضحی کی وجہ سے جانوروں کی ترسیل کے سبب ٹرکوں اور ٹرالوں کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق روئی کا کاروبار عیدالاضحی کی تعطیلات کے بعد شروع ہوسکے گا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں اضافے کا رجحان ہونے کی وجہ سے مقامی کاٹن کے بھاؤ میں زیادہ مندی ہونے کا کم امکان ہے دوسری جانب روئی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہونے کی وجہ سے بھی روئی کے بھاؤ میں زیادہ مندی ہونے کا امکان نہیں ہے۔کوویڈ 19کی چوتھی لہر تشویشناک حد تک بڑھتی جارہی ہے اس وجہ سے دوبارہ لاک ڈا=ن کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ مقامی کپڑے اور یارن کی مانگ اور بھاؤ میں بھی استحکام ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھا ؤفی من 13000 تا 13200 روپے سے 400 تا 500 روپے کم ہوکر فی من 12600 تا 12800 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 300 تا 400 روپے کم ہو کر 5200 تا 5700 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1700 تا 1800 روپے رہا۔