طالبان سے جھڑپیں ڈپٹی گورنر ہلاک ،پاک افغان سرحد سیل

135

کابل/ دوحا/ اسلام آباد (خبرایجنسیاں) افغانستان میں طالبان سے جھڑپوں میں کاپیسا کا ڈپٹی گورنر اور ائر فورس کا پائلٹ ہلاک ہوگیا ،اسپین بولدک میں گھمسان کی لڑائی جاری ، پاک فوج نے افغان سرحد پر غیر قانونی کراسنگ پوائنٹس سیل کر کے فوجی دستے تعینات کردیے ، قطر میںافغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور عبوری حکومت کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دوسری جانب اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کا اغوا و رہائی کا واقعہ پیش آیا جس پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو 48گھنٹے کے اندر گرفتار کرنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ واقعے کے بعد افغانستان نے کابل میں پاکستانی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور مطالبہ کیا کہ ناقابل معافی حرکت کے پیچھے مجرموں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے ۔تفصیلات کے مطابق افغانستان کے مختلف اضلاع میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور تازہ جھڑپوں میں کاپیسا کے ڈپٹی گورنر عزیز الرحمان طالبان حملے میں جاں بحق ہو گئے ۔ افغان میڈیا کے مطابق ضلع بگرام میں افغان ائر فورس کا پائلٹ بھی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ادھر گورنر پروان نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے صوبے پروان کے ضلع شیخ علی کا قبضہ طالبان سے واپس لے لیا تاہم ضلع شیخ علی کے نواح میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔اسپن بولدک میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری جھڑپیں گزشتہ ایک ہفتے میں شدت اختیار کر گئی ہیں۔دوسری جانب پاک افغان سرحد پر تمام غیر قانونی کراسنگ پوائنٹس سیل کردیے گئے۔آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر پاک فوج کے ریگولر دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر تمام غیر قانونی کراسنگ پوائنٹس سیل کردیے،ہر اس جگہ پر جہاں سے غیر قانونی نقل و حرکت ہوتی تھی، فوجی تعینات ہیں اور ان سرحدی مقامات پر بھی جہاں سے گزرنے کی اجازت ہے وہاں بھی باضابطہ فوجی اہلکار متعین ہیں۔ادھرقطر کے دارالحکومت دوحا میں افغان وفد اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دور جاری ہے۔ہفتے کو افغان طالبان اور حکومتی وفد کے سینئر ارکان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں عارضی جنگ بندی،طالبان قیدیوں کی رہائی اور عبوری حکومت کے قیام پر بات چیت کی گئی۔ افغان وفد کی قیادت عبد اللہ عبداللہ کررہے ہیں جبکہ سابق صدر حامد کرزئی بھی موجود ہیں، طالبان وفد کی سربراہی نائب امیر ملا عبدالغنی برادر کررہے ہیں،طالبان وفد کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر نے مذاکرات کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ عدم اعتماد کے خاتمے اور قوم کے اتحادکے لیے کوششیں کرنی چاہئیں، ہمیں اپنے ذاتی مفادات کو نظراندازکرناہوگا۔اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغان حکومت کے وفد کے ترجمان فریدون خوازون نے کہا کہ افغان تنازعے کا حل بات چیت میں مضمر ہے اور مذاکرات سے ہی امن کا حصول ممکن ہے۔ طالبان کے ترجمان محمد نسیم نے کہا کہ بات چیت سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں تاہم افغان حکومت کو بھی ایسا ہی عزم ظاہر کرنا چاہیے۔ ادھر اسلام آباد میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی 26سالہ بیٹی سلسلہ علی خیل کو اسلام آباد کے بلیو ایریا سے اغوا کے 5گھنٹے بعد زخمی حالت میں چھوڑدیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد کے ایف 7مرکز کی جناح سپر مارکیٹ سے دن ڈیڑھ بجے اغواکیا گیا اور شام کو 7بجے زخمی حالت میں بلیو ایریا تہذیب بیکری کے پاس پھینک دیا گیا۔ بعد میں افغان سفیر کی بیٹی کو زخمی حالت میں پمز اسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے ،اس معاملے کی تحقیقات کوہسار پولیس کر رہی جہاں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ افغان سفارتخانے کا حوالہ دیتے ہوئے افغان وزارت خارجہ نے کہا کہ سفیر کی بیٹی کو رینٹ کی گاڑی میں سفر کے دوران حملہ کیا گیا اور اس افسوسناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسلام پولیس نے تفصیلی تحقیقات شروع کردی،ترجمان نے کہاکہ افغان سفیر اور ان کے خاندان کے ساتھ متعلقہ سیکورٹی حکام رابطے میںہیں،اور معاملے میں مکمل مدد فراہم کررہے ہیں،اس کے علاوہ افغان سفیر اور ان کی فیملی کی سیکورٹی بڑھادی گئی ہے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ملوث عناصر کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ سفارتی مشنزکے علاوہ سفارتکاروں اور ان کے خاندان کا تحفظ اور سیکورٹی پہلی ترجیح ہے ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔اُدھرافغان وزارت خارجہ نے گزشتہ سہ پہر کابل میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان کو طلب کر کے اسلام آ باد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا پر احتجاج ریکارڈ کیا اور انہیں کہا گیا کہ افغان وزارت خارجہ کا احتجاج پاکستانی وزارت خارجہ اور ریاست کو پہنچایا جائے۔ افغان وزارت خارجہ پاکستان سے اس ناقابل معافی حرکت کے پیچھے ملوث مجرموں کو فوراً کو گرفتار اور سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ افغان وزارت خارجہ پاکستان سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان میں موجود افغان سفارت کاروں کو سیکورٹی اور تحفظ کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔