پاکستان کو ایسا ملک بنائیگے جو دوسروں کو امداد دیا کریگا،عمران خان

56

باغ (خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے ہاتھ پھیلانے والا ملک عظیم نہیں بن سکتا، پاکستان ایسا ملک بنے گا جو دوسروں کو امداد دیا کرے گا، آر ایس ایس کے نظریے سے سب سے زیادہ خطرہ بھار ت کو خود ہے، میں ساری دنیا میں کشمیر کا سفیر بن کر نکلوں گا اور کشمیریوں کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد کشمیر کے شہر باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھاکہ پاکستان اور کشمیر کا کلمہ طیبہ کا رشتہ ہے ہم اس سال کے آخر تک پورے آزادکشمیرکو ہیلتھ انشورنس دیں گے۔ 5 اگست کے بعد مودی نے سمجھا کہ کشمیری گھٹنے ٹیک دیں گے، ہم کشمیریوں کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں مقبوضہ کشمیر کے لوگ آزاد ہوں۔ ریاست مدینہ نے اپنے کمزوروں اور بیواؤں کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ قوم ہمیشہ ایک نظریے اور اپنے مفاد پرنظریے کو ترجیح دینے سے بنتی ہے۔ آر ایس ایس کے نظریے سے سب سے زیادہ خطرہ بھار ت کو خود ہے۔ ساری دنیا میں کشمیر کا سفیر بن کر نکلوں گا اور کشمیریوں کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی ملک کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر ترقی نہیں کر سکتا۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں ترقی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارے ڈاکوصرف ایک چیزمانگ رہے ہیں کہ عمران خان انہیں این آراو دے دے۔ یہ ڈاکوکہتے ہیں کہ آج حکومت گرا رہے ہیں، کل حکومت گرا رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں معاف کر دوں۔ مہذب معاشرے میں کوئی جھوٹے ٹیسٹ دکھا کر برطانیہ نہیں جاتا، ایساکہیں نہیں ہوتا کہ سزایافتہ شخص اداکاری کرکے برطانیہ چلاجائے۔ نوازشریف نے ایسی اداکاری کی کہ کوئی ہالی وڈ میں بھی نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر میری جائدادیں بھی باہر ہوتی تو امریکا کو ابسو لوٹلی ناٹ نہیں کہہ سکتا تھا۔ طاقت ورکوقانون کے نیچے لانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام طاقت ور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتا۔جیلوں میں صرف غریب لوگ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کامیاب پاکستان کا پروجیکٹ شروع کرنے جارہے ہیں، ہاؤسنگ اسکیم کے تحت آسان قرضوں پر لوگوں کو گھر دیں گے، پروگرام کے تحت ہر خاندان کے ایک فرد کو قرضہ دیں گے۔