میاں طفیل محمد اور سید منور حسن استقامت اورجرات کے پیکر تھے،منصورہ میں تعزیتی ریفرنس

68
لاہور: جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم ‘ میاں طفیل محمد اور سید منورحسن کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطا ب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت )سابق امرائے جماعت اسلامی میاں طفیل محمد ؒ اور سید منورحسن ؒ استقامت اور جرأت کے پیکر تھے ۔ دونوں نے اپنے اپنے دورامارت میں روس اور امریکا کی سپر طاقتوں کو للکارا ۔ سادگی اور علم و حلم کی حامل ان شخصیات کے سینے اللہ کے نور سے روشن تھے ۔ انہوںنے تحریک اسلامی کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا ۔ مولانا مودودی ؒ ، بانی جماعت تھے تو میاں طفیل محمد مرحوم معمار ِ جماعت ، سید منورحسن نڈر اور بے باک اور اصولی بات کے سامنے کسی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ جماعت اسلامی سے وابستہ ہر شخص کو دونوں رہنمائوں کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے دین کے پیغام کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں جدوجہد کو تیز کرناہوگا۔ اللہ کا دین غالب آ کر رہے گا اور کامیابی و کامرانی امت مسلمہ کا مقدر ٹھیرے گی ۔ ان خیالات کااظہار سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم ، نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، مرکزی رہنما حافظ محمد ادریس و دیگر نے میاں طفیل محمدؒ و سید منورحسنؒ کی یاد میں منصورہ میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صدر علماء و مشائخ ونگ جماعت اسلامی میاں مقصود احمد اور میاں طفیل محمد کے صاحبزادوں نے بھی شرکاء سے خطاب کرکے دونوں شخصیات کی زندگیوں کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی ۔امیرالعظیم نے خطاب کرتے ہوئے سابق ا مرائے جماعت کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ دونوں میں ایک وصف یکساں تھا کہ انہوںنے اپنے اپنے عہد امارت میں دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کو للکارا اور انہیں یاد دلایا کہ تمام تر اسلحہ اور طاقت کے باوجود وہ مسلمانوں کے جذبہ حریت کو شکست نہیں دے سکتے ۔ میاں طفیل محمد نے روس کو وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ وہ افغانستان اور بعد میں پاکستان کو سرنگوں کرنے کے زعم میں نہ رہے اور ان کا کہا سچ ثابت ہوا ۔ سید منورحسن نے گو امریکہ گو کا نعرہ لگایا اور کہاکہ امریکہ افغانستان سے شکست کھا ئے گا ، آج جب وہ ہم میں نہیں ہیں تو ان کے کہے گئے الفاظ کوسب یاد کررہے ہیں ۔ امیر العظیم نے کہاکہ اب جب امریکہ افغانستان سے پسپائی اختیار کرچکا ہے تو افغان قوم کو حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جیئے اور فیصلہ کرے ،دنیا نے سالہاسال سے افغانوں کا ناطقہ بند کر رکھاہے ،اب وہاں امن کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ افغان قوم جنگ پر صلح کو ترجیح دیتی ہے اور آج افغانستان کے رہنما صلح کے لیے کوششیں کر رہے ہیںمگر اگر کسی کی خواہش ہے کہ انہیں خرید کر پسپاکر دیا جائے گا تو ایسا ممکن نہیں ۔ انہوں نے ان لوگو ں کو سخت تنقید کانشانہ بنایا جو افغانستان میں اسلامی نظام کو جبر اور لاٹھی کا نظام قرار دے رہے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ سالہا سال سے توپوں اور اسلحہ کی مدد سے افغانستان میں کونسی جمہوریت نافذ کی جارہی تھی ۔ امیر العظیم نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ امت مسلمہ دین کی سربلندی کے لیے یک جان ہو جائے اور اس منزل کے حصول کے لیے جدوجہد کرے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے خود امت مسلمہ سے کیا ہے یعنی مسلمان ہی کامیاب و کامران ہوں گے ۔ دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے میاں طفیل محمد ؒ اور سید منورحسنؒ کی دین اسلام ، امت مسلمہ اور پاکستان کے لیے خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے ۔