جی ایس پی پلس جاری رکھنے کیلیے کنونشنز پر عمل ضروری ہے ، یورپی یونین

96
صدر کے سی سی آئی ایم شارق وہرہ پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کامینارا کو شیلڈ پیش کررہے ہیں

کراچی ( اسٹاف رپور ٹر )پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کامینارا نے ہیومن اور لیبر رائٹس سے متعلق کنونشنز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے جی ایس پی پلس کا درجہ بغیر کسی مسئلے کے جاری رہ سکے۔ یورپی یونین کی سفیر نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارت کو مزید بہتر بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں یورپی یونین کی تجارت کے حوالے سے سہولت فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔ اس موقع پر صدر کے سی سی آئی ایم شارق وہرہ، سینئر نائب صدر ایم ثاقب گڈلک، کے سی سی آئی کے ڈپلومیٹک مشنز ایمبیسیز لائژن کمیٹی کے چیئر مین جنید منڈیا، سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے ممبران بھی اجلاس میں شریک تھے۔یورپی یونین کی سفیر نے بتایا کہ اصلاحات اور کنونشنز کے نفاذ پر پیش رفت کا ہر دو سال بعد جائزہ لیا جاتا ہے اور اگر کوئی ملک فرائض کی مکمل پابندی نہیں کرتا پایا گیا تو رپورٹ کی روشنی میں جی ایس پی جیسی خصوصی تجارتی مراعات کو واپس لے لیا جاتا ہے انہوں نے پاکستان کی جانب سے دستخط کیے گئے مجموعی طور پر 27 کنونشنز میں سے کچھ کنونشنز میں بہتری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صحافی برادری کے تحفظ کے لیے قانون سازی میں دوسال لگائے ۔